خطبات محمود (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 67 of 772

خطبات محمود (جلد 17) — Page 67

خطبات محمود ۶۷ سال ۱۹۳۶ء ہے کہ ایک کھاتے پیتے انسان کو خدا مانا جائے ، انسانی عقل اسے دھکے دیتی اور اسے اپنے سفید کپڑوں پر ایک داغ اور میں سمجھتی ہے لیکن باوجود ان تمام باتوں کے عیسائیوں کے اخلاق کیوں تم سے اعلیٰ ہیں؟ ان کے اعلیٰ اخلاق مذہب کی وجہ سے نہیں بلکہ اس وجہ سے ہیں کہ ان قوموں نے کسی سبب سے میں اُس سبب کی تعیین نہیں کرتا، میں مذہب پر بحث نہیں کر رہا کہ میں مذہبی سبب بیان کروں، میں اقتصادیات پر بحث نہیں کر رہا کہ اقتصادی سبب بیان کروں ، میں سیاسیات پر بحث نہیں کر رہا کہ سیاسی سبب بیان کروں، میں یہ کہتا ہوں کہ کسی وجہ سے انہوں نے اپنے آپ کو بریکاری سے بچالیا اور کام کرنے کی عادت ڈال لی۔نتیجہ یہ ہوا کہ باوجود اس کے کہ مذہب ان کے پاس نہیں ان کے اخلاق تم سے اعلیٰ ہو گئے۔ہم جب لنڈن پہنچے اور رات سونے کے بعد میں صبح کو اُٹھا تو میں نے اپنے قافلہ کے دوستوں کے چہروں پر رنجش کے آثار پائے اور مجھے یوں معلوم ہوا کہ گویا کوئی جھگڑا ہوا ہے۔میں نے ادھر اُدھر سے گرید کرنا شروع کیا تو مجھے بتایا گیا کہ کچھ جھگڑا ہو گیا تھا مگر آپ کو بتا نا مناسب نہیں سمجھا گیا۔میں نے کہا کیا ہوا؟ تو بعض دوستوں نے بتایا کہ اسباب جب اُتارا گیا تو اُس وقت سوال پیدا ہوا کہ مختلف کمروں میں کس طرح پہنچے۔وہاں مزدور اور قلی نہیں ہوتے بلکہ سب اپنے ہاتھ سے کام کرتے ہیں۔چونکہ ہمارے قافلہ والے ہندوستانیت اپنے ساتھ لے کر گئے تھے اس لئے جب یہ وہاں پہنچے اور اسباب اُٹھانے کیلئے کوئی مزدور نہ پایا تو ان میں سے بعض سخت ناراض ہوئے کہ یہاں ہمارے اچھے مبلغ رہتے ہیں کہ انہوں نے ہمارا اسباب اُٹھوانے کیلئے کوئی انتظام نہیں کیا اگر مزدور ہوتے تو ان کے ذریعہ اسباب اُٹھوا کر پہنچادیتے۔ہم سے پہلے چوہدری ظفر اللہ خان صاحب وہاں پہنچے ہوئے تھے ان کے ساتھ ان کا ایک دوست بھی تھا جو جرمن کا رہنے والا تھا اور اُس کا باپ نواب تھا۔میں نے چوہدری صاحب سے کہہ دیا تھا کہ آپ ہم سے پہلے جارہے ہیں ہمارے پہنچنے سے پہلے سیریں وغیرہ کر لیں لیکن جب ہم پہنچیں تو پھر آپ کو ہمارے ساتھ کام کرنا ہوگا۔اس کے مطابق چوہدری صاحب اور ان کے جرمن دوست ہم سے پہلے اس مکان میں آئے ہوئے تھے۔بتانے والے نے بتایا کہ اس سوال کے پیدا ہونے پر کہ کمروں میں اسباب کون رکھے ؟ ہمارے ساتھی تو ایک دوسرے سے روٹھ کر الگ ہو گئے اور سارا اسبا