خطبات محمود (جلد 17) — Page 663
خطبات محمود ۶۶۳ سال ۱۹۳۶ ہاتھ میں ہی آتا ہے۔تین لاکھ کا عام طور پر ہمارا بجٹ ہوتا ہے خاص چندے اس کے علاوہ ہوتے ہیں اور اس طرح ۲۲ سال کے عرصہ میں قریباً اسّی لاکھ روپیہ آچکا ہے۔پھر مقامی طور پر بھی جماعتیں چندے کر لیتی ہیں اور ان کی تعداد ۲۰، ۲۵ لاکھ سے کم نہ ہوگی۔پس چند آنے اور دو فیصدی آدمی میرے ہاتھ میں دے کر اللہ تعالیٰ نے مجھے توفیق دی کہ میں ان چند آنوں کو ایک کروڑ روپیہ سے اور دو فیصدی آدمیوں کو اٹھا نوے فیصدی یا اس سے زیادہ آدمیوں سے تبدیل کر دوں۔کئی دفعہ دیکھا جاتا ہے کہ ایک سادھو ایک شخص کے پاس آتا ہے اور کہتا ہے کہ مجھے دس روپیہ کا نوٹ دو میں نہیں کا بنادوں گا اور لوگ یہ جاننے کے باوجود کہ وہ نہیں بنا سکتا اسے روپیہ دے دیتے ہیں۔انہیں اس بات کا یقین نہیں ہوتا کہ وہ ایسا کر سکے گا پھر بھی لالچ کی وجہ سے اُس پر ایمان لے آتے ہیں مگر ان نادانوں کو دیکھو جو مجھ پر ایمان نہیں لاتے جس نے چند آنوں کو ایک کروڑ بنا دیا اور دو فیصدی کو اٹھانوے فیصدی میں بدل دیا اور پھر یہ سب کام ان حالات میں ہوا کہ مخالفت کے طوفان کے بعد طوفان اُٹھتے چلے آتے تھے یہی وہ کام ہے جسے زمینی زبان میں جادو اور آسمانی زبان میں معجزہ کہتے ہیں اور معجزہ بھی نبیوں والا معجزہ ہے جو نبیوں اور ان کے خلفاء کو ہی ملتا ہے ان کے سوا بڑے بڑے اولیاء بھی اس سے محروم رہتے ہیں۔کاش ! لوگ آنکھیں رکھتے اور دیکھتے اور اس حقیر قربانی کو نگاہ میں نہ رکھتے جس کی توفیق ان کو یا ان کے دوستوں کو ملی ہے بلکہ ان عظیم الشان نتائج کو دیکھتے جو اس حقیر قربانی کے نتیجہ میں خدا تعالیٰ نے میرے ہاتھ سے ظاہر کرائے ہیں۔میں مخلصوں کو پھر ایک بار توجہ دلاتا ہوں کہ وہ اپنے وعدوں کو پورا کریں۔تھوڑا عرصہ ہوا میں نے پہلے بھی توجہ دلائی تھی کہ اس سال کی آمد گزشتہ سال کی اسی تاریخ سے گیارہ ہزار کم ہے اگر چہ وعدے گزشتہ سال سے زیادہ ہیں اور تحریک کی تھی کہ دوست اس کمی کو جلد پورا کریں اور یہ اللہ تعالیٰ کے شکر اور حمد کا مقام ہے کہ اب کمی 11 ہزار کے بجائے صرف اڑھائی ہزار رہ گئی ہے ( آج جب کہ میں خطبہ درست کر رہا ہوں یہ کمی آٹھ سو رہ گئی ہے )۔مگر چونکہ اب تک بھی گزشتہ سال سے آمد کم ہے حالانکہ ۱۰،۸ ہزار کے قریب زیادہ ہونی چاہئے تھی اس لئے میں پھر احباب کو اس نقص کی طرف توجہ دلاتا ہوں مجھے افسوس ہے کہ بعض بڑی جماعتوں نے بہت لا پرواہی کی ہے