خطبات محمود (جلد 17) — Page 628
خطبات محمود ۶۲۸ سال ۱۹۳۶ ہم خیال لوگ کہیں گے اس نے وقار کے خلاف فعل کیا۔فرض کر وکوئی ڈپٹی کمشنر ہے یا ای۔اے سی ہے یا فوج کا کپتان ہے وہ اگر کسی دن پاجامہ اُتار کر اور ایک معمولی لنگوٹ باندھ کر بازار میں پھر نے لگ جاتا ہے تو اُس کے دوست اور احباب سب کہنے لگ جائیں گے کہ یہ کیسا وقار کے خلاف فعل ہے لیکن اس کے ساتھ ہی ہم دیکھیں گے کہ ایک زمیندار بھی اسی بازار میں پھر رہا ہے اس نے بھی ایک لنگوٹ باندھا ہوا ہے بلکہ اس نے گریہ بھی اُتارا ہوا ہے مگر اس کے دوست اسے دیکھ کر یہ نہیں کہتے کہ یہ فعل وقار کے خلاف ہے یہ بازار میں اس طرح کیوں پھر رہا ہے بلکہ وہ اس فعل کو بالکل جائز اور درست سمجھتے ہیں۔پس دونوں جگہ لنگوٹ ہیں لیکن ایک کے لنگوٹ باندھنے کو خلاف وقار کہا جاتا ہے اور دوسرے کے لنگوٹ باندھنے کو خلاف وقار نہیں کہا جاتا ہاں اگر وہ زمیندار جس نے لنگوٹ باندھا ہوا ہے اگر اپنا لنگوٹ بھی اُتار دیتا ہے تو اُس وقت اُس زمیندار کے ساتھی بھی اسے کہیں گے کہ یہ کیسی خلاف وقار بات ہے بشرطیکہ انہیں وقار کا لفظ آتا ہو اور اگر وقار کا لفظ نہ آتا ہو تو وہ کہیں گے یہ فعل ہمیں نا پسند ہے۔اسی طرح ایک مسلمان پردہ دار عورت جو اپنی سوسائٹی میں جہاں پردہ کیا جاتا ہے اور برقع کو استعمال کیا جاتا ہے ہمیشہ پردہ کرتی ہے اگر باہر جاتے ہوئے کسی وقت برقع کی نقاب اُٹھا دیتی ہے تو ساری عورتیں اُسے دیکھ کر کہیں گی یہ بات وقار کے بالکل خلاف ہے لیکن ایک زمیندار عورت جو برقع بنوا نہیں سکتی اور جو اپنے حالات کے لحاظ سے برقع پہن نہیں سکتی اگر صرف گھونگھٹ نکالے پھر رہی ہوتی ہے تو اُس کے ار در گرد بیٹھنے والی عورتوں کے ذہن میں بھی کبھی یہ خیال نہیں آتا کہ یہ بات وقار کے خلاف ہے۔ہاں اگر وہی عورت کسی وقت گھونگھٹ بھی اُتار دے اور ننگے سر پھرنے لگ جائے تو اگر ان عورتوں کو وقار کے لفظ کا علم ہو تو وہ سب کہیں گی یہ کیسی وقار کے خلاف بات ہے۔اب ایک باپردہ عورت کیلئے صرف نقاب کا اُٹھا دینا وقار کے خلاف ہے اور ایک زمیندار عورت کیلئے بے نقاب ہونا وقار کے عین مطابق ہے ، ہاں اگر وہ گھونگھٹ بھی اُتار دیتی ہے اور ننگے سر پھرنے لگتی ہے تو یہ فعل وقار کے خلاف ہو جاتا ہے۔یا ایک دولت مند آدمی اگر کسی دن بغیر بوٹ پہنے ننگے پاؤں بازار میں چلا جاتا ہے تو اُس کے سب دوست اور احباب کہیں گے اتنا عقلمند اور متمول ہوکر اس نے کیسا خلاف وقار فعل کیا۔لیکن اسی بازار اور اسی گلی میں بیسیوں غرباء ننگے پاؤں پھرتے نظر آئیں گے اور وہ ایسے