خطبات محمود (جلد 17) — Page 629
خطبات محمود ۶۲۹ سال ۱۹۳۶ ہوں گے کہ سالہا سال سے انہیں جوتی میسر نہیں آئی ہوگی مگر انہیں کوئی نہیں کہے گا کہ ان کا یہ فعل وقار کے خلاف ہے۔یا ایک معزز اور ذی ثروت آدمی جو اپنی روزی کمانے کی فکر سے بے نیاز ہے اور دوسرے کا محتاج نہیں وہ اگر بازار میں بیٹھ کر نمک کوٹنے لگ جاتا ہے، یا تمبا کو گو ٹنے لگ جاتا ہے، یا مرچیں کوٹنے لگ جاتا ہے تو سارے دوست اسے دیکھ دیکھ کر مسکرائیں گے اور کہیں گے اس کے دماغ میں نقص ہو گیا ہے اور اگر نقص نہ ہوتا تو یہ ایسا خلاف وقار کام سر بازار کیوں کرتا۔مگر اسی بازار میں ایک چھوٹا دکاندار تمبا کو بھی گوٹتا ہے، نمک بھی گوٹتا ہے، مرچیں بھی گوٹتا ہے مگر اس کے ساتھی اس کے پاس مشورہ کیلئے آتے رہتے ہیں اور وہ کبھی نہیں کہتے کہ تو وقار کے خلاف کام کر رہا ہے بلکہ وہ اسے ویسا ہی معزز سمجھتے ہیں جیسے پہلے سمجھتے تھے اور ویسا ہی مؤقر سمجھتے ہیں جیسے پہلے سمجھتے تھے۔ان کے دلوں میں اس کا احترام بھی ہوتا ہے اگر وہ اعلیٰ اخلاق والا ہو تو اس کی عظمت بھی ہوتی ہے۔وہ اس سے باتیں بھی کرتے ہیں اہم امور میں اس سے مشورے بھی لیتے ہیں مگر کبھی ان کے ذہن میں یہ نہیں آتا کہ اس کے یہ کام وقار کے خلاف ہیں۔پس ہمارے ملک میں وقار ایسے فعل ، ایسے امر ، ایسی بات کو کہا جاتا ہے جو وقار کا لفظ استعمال کرنے والے کی عادت کے خلاف ہو مگر کیا ساری ہی عادتیں اچھی ہوتی ہیں ؟ اور کیا وہ ساری باتیں جنہیں وقار سمجھا جاتا ہے اخلاق اور دین کیلئے محمد ہوتی ہیں؟ اور کیا ان میں سے بیسیوں نہیں سینکڑوں باتیں دین کیلئے مضر نہیں ہوتیں؟ پھر اگر ہم ان کو چھوڑ دیں تو کیا ساری سوسائٹی یہ نہیں کہے گی کہ یہ بات وقار کے خلاف ہے؟ مگر کیا وہ بُری زندگی بہتر ہے جو ان لوگوں کی نگاہ میں وقار کے خلاف نہیں یا وہ اچھی زندگی بہتر ہے جو گولوگوں کی نگاہ میں وقار کے خلاف ہے مگر خدا تعالیٰ کی نگاہ میں وقار کے خلاف نہیں کیونکہ خدا تعالی وقار کو ان معنوں میں نہیں لیتا جن معنوں کو میں عام لوگ اسے استعمال کرتے ہیں بلکہ وہ وقار کا لفظ ان معنوں میں لیتا ہے جن معنوں میں قرآن مجید نے اسے استعمال کیا ہے۔پس جب ہمارے اس دوست نے لکھا کہ نیشنل لیگ کے والٹیئر ز کا یہ فعل کہ انہوں نے اپنے سروں پر کاغذ کی ٹوپیاں پہن رکھی ہیں جن پر ہائیکورٹ کے فیصلہ کے چند فقرات لکھے ہو۔ہیں وقار کے خلاف ہے تو اس کے صرف اتنے ہی معنے تھے کہ یہ بات میری عادت کے خلاف ہے