خطبات محمود (جلد 17) — Page 590
خطبات محمود ۵۹۰ سال ۱۹۳۶ امر کے حاصل ہونے کی وجہ سے بڑی بڑی جماعتوں پر غالب آگئیں۔پس ہمیں اس لئے اپنی تعداد بڑھانے کی کوئی ضرورت نہیں کہ ہم جیت جائیں گے بلکہ ہم اس بات کے خواہشمند ہیں کہ لوگ تباہی اور بربادی سے بچ جائیں۔فتح حاصل کرنے کیلئے ہمیں صرف اس بات کی ضرورت ہے کہ اللہ تعالیٰ کا فضل حاصل کریں جو سچی قربانی سے ہی حاصل ہو سکتا ہے۔اللہ تعالیٰ دائم رہنے والی اور اَلْحَيُّ الْقَيُّومُ سے ہستی ہے وہ ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گا اور وہ اُسی کو اپنے قریب لاتا ہے جو اس بات پر یقین رکھے کہ خدا تعالیٰ زندہ کرنے والا ہے۔زید کے متعلق اگر یہ یقین کامل ہو کہ وہ اچھا تیراک ہے اور یہ ممکن نہیں کہ وہ کسی کو ڈوبنے دے تو اس کے موجود ہوتے ہوئے کوئی شخص خطر ناک سمندر میں کود پڑنے سے بھی نہیں ڈرے گا۔اسی طرح جس کو خدا تعالیٰ پر یہ یقین ہو کہ وہ الحی ہے اور زندہ کرنے والا ہے وہ ہر موت قبول کرنے کیلئے تیار ہوگا۔پس جب تک کوئی اللہ تعالیٰ کی صفت الحَيُّ الْقَيُّومُ پر یقین نہیں رکھتا جس کی علامت یہ ہے کہ وہ ہر موت کو قبول کرنے کیلئے تیار نہیں رہتا اُس وقت تک اللہ تعالیٰ بھی اُس کے ایمان کو قبول نہیں کرتا۔جس شخص کو یقین ہو کہ اُس نے اتنی مشق کرنی ہے کہ سنکھیا اُسے کوئی نقصان نہیں پہنچائے گا وہ تو لہ بھر سنکھیا بھی کھا جائے گا لیکن جسے یہ یقین نہ ہو وہ کبھی ایسی جرات نہیں کر سکتا۔پھر بعض لوگوں کو آگ پر چلنے کی ترکیب آتی ہے وہ اس سے نہیں ڈرتے لیکن کوئی دوسرا آگ کے نزدیک بھی نہیں جاسکتا اسی طرح جو شخص اللہ تعالیٰ کو اَلْحَيُّ الْقَيُّومُ جانتا ہے وہ موت سے نہیں ڈرتا۔ہندوؤں میں ایک لطیفہ مشہور ہے مگر ہم اس سے ایک سبق ضرور حاصل کر سکتے ہیں۔کہتے ہیں کوئی راجہ تھا جس کے ہاں اولا د نہیں ہوتی تھی اُس نے علاج وغیرہ بہت کرائے مگر بے سود۔ہندوؤں میں تین خدا سمجھے جاتے ہیں برہما، ویشنو اور شیو۔برہما پیدائش کا خدا سمجھا جاتا ہے ، ویشنو رزق کا اور شیو موت کا خدا۔اس راجہ نے برہما کی نذر مانی کہ اگر میرے ہاں بیٹا ہو تو میں تیری عبادت کیا کروں گا۔ہندو برہما کی عبادت نہیں کرتے کیونکہ سمجھتے ہیں کہ اس نے تو صرف پیدا ہی کرنا تھا سو کر دیا اس سے اب کسی نفع نقصان کی کیا امید ہے۔اب تو روزی دینے والے اور مارنے والے خدا کی عبادت ضروری ہے۔گویا عبادت میں بھی وہ تجارتی اصول کو مدنظر رکھتے ہیں احسان کے ماتحت خدا کی عبادت نہیں کرتے۔تو اس راجہ نے برہما کی عبادت کرنے کا وعدہ کیا اور اس کے