خطبات محمود (جلد 17) — Page 585
خطبات محمود ۵۸۵ سال ۱۹۳۶ دنیا کے سامانوں سے مت ڈرو اور اس کی تکلیفوں کا مت خیال کرو تم میں سے ہر فرد واحد کا معاملہ براہ راست خدا تعالیٰ سے ہے پس اپنے دل میں عہد کرو کہ اس آخری زمانہ کے مصلح حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے نقش قدم پر چلتے ہوئے دنیا کی اصلاح کریں گے اور بیوی بچوں، ہمسایوں، دوستوں ، رشتہ داروں اور ملنے والوں کی کوئی پروانہ کریں گے اور جس جس قربانی کیلئے بلایا جائے گا اس کیلئے آمادہ ہوں گے۔جب تم ایسا کرو گے تو تمہارا معاملہ خدا سے صاف ہو گیا۔لَا يَضُرُّكُمُ مَنْ ضَلَّ إِذَا هُتَدَيْتُم هے جب تم ہدایت پاگئے تو دوسرے کی گمراہی تمہیں کوئی نقصان نہیں پہنچا ؟ سکتی۔خدا تعالیٰ کے سامنے تم دنیا کے ذمہ دار نہیں بلکہ صرف اپنی جان کے ذمہ دار ہو۔جب تم اپنی جان خدا تعالیٰ کے سامنے پیش کر دو گے اور کہہ دو گے کہ اے خدا! ہم نے تیرے لئے اور تیرے دین کی اشاعت کیلئے اپنی جان بھی قربان کر دی آگے لوگوں کی اصلاح ہوئی یا نہیں ہوئی یہ تیرا کام تھا ہمارا نہیں تو تم اپنے فرض سے سبکدوش سمجھے جاؤ گے اور تم پر کوئی الزام نہیں ہوگا۔مگر یا درکھو اگر انسان خدا تعالیٰ کیلئے اپنی جان دینے کیلئے تیار ہو جائے تو ناممکن ہے کہ دنیا کی اصلاح نہ ہو۔زمین ٹل سکتی ہے ، آسمان ٹل سکتے ہیں، پہاڑ غائب ہو سکتے ہیں ، دریا خشک ہو سکتے ہیں ،سمندر بھاپ بن کر اڑ سکتے ہیں، تمام عالم تہہ و بالا کیا جاسکتا ہے مگر مؤمن کی قربانی کو خدا کبھی ضائع نہیں ہونے دیتا۔اس کے دل سے بہا ہوا ایک قطرہ خون سارے زمین و آسمان سے زیادہ قیمتی ہوتا ہے۔چاہے تم اس دنیا میں کامیابی دیکھو چاہے اگلے جہان میں آسمان پر سے جھانک کر دیکھو بہر حال تمہاری قربانیاں ضائع نہیں ہوں گی۔دنیا کی اصلاح ہو کر رہے گی اور حضرت مسیح موعود ال مشن دنیا میں قائم ہو کر رہے گا اور تم خدا کی گود میں ہنستے ہوئے کہو گے کہ ہمارا تھوڑا سا خون دنیا میں کتنے عظیم الشان تغیرات پیدا کرنے کا موجب ہوا۔آج اسلام تباہی کی حالت میں گرا ہوا ہے مگر صدیوں تک اسلام نے دنیا میں نہایت نیک اور مہتم بالشان تغیر پیدا کئے ہیں۔وہ دو دو چار چار روپے کی حیثیت کے صحابہ جن کے جسم پر کپڑے بھی کافی نہیں ہوتے تھے اور جن کے پیٹ میں روٹی نہیں ہوتی تھی وہ کسی اعلیٰ مقام کو پہنچے ؟ جس وقت اگلے جہان میں خدا اُن کی روحانی بینائی کو تیز کرتا ہوگا اور گزشتہ صدیوں میں جب وہ آسمان پر سے جھانک کر دیکھتے ہوں گے کہ کس طرح دنیا میں یورپ سے لے کر چین کے کناروں تک مسلمان خدا کا نام پھیلانے میں مصروف ہیں تو اُن