خطبات محمود (جلد 17) — Page 567
خطبات محمود ۵۶۷ سال ۱۹۳۶ علیہ السلام کی طرف خدا تعالیٰ کی اکثر صفات نہایت شد و مد سے منسوب کرتے تھے مثلاً وہ اب تک آسمان پر زندہ بیٹھے ہیں ، وہ مُردے زندہ کیا کرتے تھے، ان کو غیب کا علم تھا وغیرہ وغیرہ لیکن کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے طفیل ایک احمدی بچہ بھی اس عقیدہ پر قائم رہنا گوارا نہیں کر سکتا اور وہ نہایت قوی عقلی و نقلی دلائل سے اس کو باطل کر سکتا ہے۔یہ بات اس احمدی بچہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام میں وہ بات آنحضرت میلے میں فنا اور محو ہونے سے آئی ہے۔پس جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے آنحضرت ﷺ سے نور لیا اور اس نور کو دنیا میں پھیلایا تو شرک کی ظلمت اس نور کے آنے سے کافور ہوگئی اور علاوہ اس ایک بات کے اور بھی ہزاروں شرک کی باتیں حضور نے لوگوں کو دکھا ئیں کہ وہ ان سے پر ہیز کریں لیکن یہی باتیں اس زمانہ کے مشہور علماء اور فقہاء کی نظر سے اب تک اوجھل ہیں۔اس کی صرف یہی وجہ ہے کہ وہ لوگ آنحضرت ﷺ کے وجود مبارک میں محو نہیں ہوئے اس لئے اس نعمت سے محروم رہے اور ی حضرت مسیح موعود نے ہی اس زمانہ کے لوگوں کو لا الہ الا اللہ کا جلوہ دکھلایا اور یہی تو ایک چیز ہے جو اسلام کا لب لباب ہے اور جس کا ہر کامل موحد میں پایا جانا ضروری ہے۔اس کے علاوہ باقی تفصیلات ہیں اور وہ مختلف آدمیوں کیلئے مختلف شکلوں میں بدلتی چلی جاتی ہیں۔جیسے کہ ایک شخص آنحضرت ﷺ کے حضور حاضر ہوا اور عرض کی يَارَسُولَ اللهِ ! مجھے سب سے بڑی نیکی بتا ئیں۔حضور نے فرما یاماں کی خدمت کیا کر ھے۔اس کے بعد کسی اور موقع پر ایک اور شخص آیا اور اس نے عرض کی کہ يَا رَسُولَ اللهِ! مجھے سب سے بڑی نیکی بتا ئیں۔حضور نے فرما یا جہاد فی سبیل اللہ کیا کر۔ایک اور شخص نے سب سے بڑی نیکی دریافت کی تو حضور نے اُس کو تہجد بتلائی۔نادان لوگ اعتراض کرتے ہیں کہ حضور نے متضاد باتیں بتلائی حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ ان باتوں میں تضاد قطعاً نہیں بلکہ وہ تینوں اشخاص تین مختلف امراض میں مبتلاء تھے۔پس اُن کے علاج بھی مختلف ہی ہونے چاہئیں تھے۔ایک کو ماں کی خدمت نہ کرنے کی مرض تھی حضور نے اُس سب سے بڑی نیکی ماں کی خدمت قرار دی۔دوسرا شخص جہاد فی سبیل اللہ میں ست تھا اُس کو جہاد فی سبیل اللہ سب سے بڑی نیکی بتلائی گئی اور تیسرا شخص تہجد کی ادائیگی میں کمزور تھا اُس کو آنحضرت ﷺ نے یہ فرما دیا کہ تیرے لئے سب سے بڑی نیکی تہجد ہی ہے کیونکہ تو اس سے محروم ہے۔