خطبات محمود (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 568 of 772

خطبات محمود (جلد 17) — Page 568

خطبات محمود ۵۶۸ سال ۱۹۳۶ الغرض تفصیلات ہر انسان کیلئے بدلتی رہتی ہیں مگر لATLANTA ALA GALALA N سب کیلئے یکساں ہے یہ کی ہرگز نہیں بدلتا۔کسی کو سورہ بقرہ فائدہ دیتی ہے کسی کو آل عمران کسی کو کوئی اور سورۃ یا آیت۔مگر لَا إِلَهَ إِلَّا الله سب کو یکساں طور پر فائدہ پہنچاتا ہے گویا قرآن کریم کی تمام آیات اپنے اپنے مقام پر بہت عمدہ اور مفید ہیں لیکن لا اله الا اللہ سب پر حاوی اور سب سے بڑھ کر ہے اور اس کی مثال یوں سمجھ لو کہ آنحضرت ﷺ فرماتے ہیں کہ اَصْحَابِی كَالنُّجُومِ بِأَتِهِمُ اقْتَدَيْتُمُ اهْتَدَيْتُمُ العنی میرے صحابہ ستاروں کی طرح ہیں ان میں سے جس کے پیچھے بھی چلو گے وہ تم کو سیدھے راستہ پر ڈال دے گا۔پس صحابہ کرام تو ستارے تھے لیکن آنحضرت ﷺ عالم روحانی تھے جس کے اندر یہ سب روحانی ستارے بھی آجاتے ہیں۔یہ روحانی ستارے اپنی اپنی جگہ پر تو بہت عمدہ تھے لیکن روحانی سورج سے ان کا مقابلہ نہیں کیا جاسکتا۔الغرض ہمارے سامنے خدا تعالیٰ کا مقرر کردہ ماٹو لَا إِلهَ إِلَّا اللهُ تو موجود ہے لیکن لوگ اسلام کے اس ماٹو کو بھول گئے ہیں اور آج کل کے واعظ اپنے وعظوں میں توحید کا نام تک نہیں آنے دیتے بلکہ ادھر ادھر کی غیر ضروری باتوں کے بیان کرنے میں اپنا قیمتی وقت ضائع کر دیتے ہیں حالانکہ تو حید کی ضرورت انسان کے ہر ایک کام میں رہتی ہے حتی کہ آنحضرت ﷺ اپنے سونے کے وقت اور وضو کے وقت بھی تو حید کا اقرار فرمایا کرتے تھے کیونکہ تو حید صرف اس امر کا نام نہیں کہ انسان بت پرستی نہ کرے یا کسی شخص کو خدا تعالیٰ کے مقابلہ میں زندہ نہ مانے یا کسی کو خدا کا شریک نہ ٹھہرائے بلکہ دنیا کے ہر ایک کام میں توحید کا تعلق ہے کیونکہ جب بھی کسی انسان کو دنیا کے کسی کام پر ذرہ بھر بھروسہ اور اتکال ہو گیا تو وہ انسان شرک کے مقام پر جا ٹھہرا اور اس کے موحد ہونے کا دعوی باطل ہو گیا کیونکہ تو حید کی لازمی شرط یہی ہے کہ انسان صرف خدا تعالیٰ کی ذات پر ہی اتکال رکھے کیونکہ تو حید کے معنی ہی یہ ہیں کہ ہر کام میں خواہ وہ دینی ہو یا دنیاوی انسان کی نظر صرف ایک خدا کی طرف اُٹھے۔جہاں اُس کی نظر ماسوی اللہ کی طرف بلند ہوئی اس میں شرک آ گیا۔حتی کہ انسان کو ہر قدم پر سوچنا پڑتا ہے کہ کہیں میں شرک تو نہیں کر رہا یہاں تک کہ جب آدمی پانی پیتا ہے اور کھانا کھاتا ہے تو اُس وقت بھی دیکھتا ہے کہ کہیں میں اس کام میں شرک تو نہیں کر رہا۔