خطبات محمود (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 553 of 772

خطبات محمود (جلد 17) — Page 553

خطبات محمود ۵۵۳ سال ۱۹۳۶ نہیں ہو جانا چاہئے بلکہ کوشش کرنی چاہئے کہ ساری جماعت ایسی ہو جائے ایسے لوگوں سے صرف اتنا فائدہ ہو سکتا ہے کہ ان کی مثال دوسروں کے سامنے پیش کر کے ہم کہہ سکتے ہیں کہ کیا ان کو مال کی ضرورت نہیں ، ان کو اپنے بیوی بچوں سے محبت نہیں ، پھر اگر وہ خدا کیلئے قربانی کر سکتے ہیں تو تم کیوں نہیں کر سکتے۔پس میں دوستوں کو توجہ دلاتا ہوں کہ وہ اس امانت کی قدر کریں جو ان کے سپرد کی گئی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے آکر ہمیں جائدادیں نہیں دیں، حکومتیں نہیں دیں ، کوئی ایجادیں نہیں کیں ، سامان تعیش مہیا نہیں کئے ، صرف ایک سچائی ہے جو ہمیں دی ہے اور اگر وہ بھی جاتی رہے تو کس قدر بد قسمتی ہوگی اور ہم اس فضل کو اپنے ہاتھ سے پھینک دینے والے ہوں گے جو تیرہ سو سال کے بعد اللہ تعالیٰ نے نازل کیا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ہم کو اسلام دیا، اخلاق فاضلہ دیے اور نمونہ سے بتادیا کہ ان پر عمل ہو سکتا ہے۔پہلے خیال تھا کہ ان چیزوں پر عمل محال ہے مگر آپ نے بتادیا کہ عمل ہو سکتا ہے پھر بھی کئی ہیں جو فائدہ نہیں اُٹھاتے۔ہم میں سے کئی ہیں جو جوش میں آکر مخالف کو گالیاں دینے لگ جاتے ہیں مگر آپ پر قتل کا ایک جھوٹا مقدمہ بنایا گیا اس وقت اس ضلع کے ڈپٹی کمشنر کیپٹن ڈگلس تھے جو اس وقت بھی زندہ ہیں اور اب کرنل ڈگلس ہیں۔وہ اس قدر متعصب تھے کہ جب اس ضلع میں آئے تو کہا کہ اس ضلع کے رہنے والا ایک شخص مسیح ہونے کا دعوی کرتا ہے اب تک کیوں اسے سزا نہیں دی گئی؟ ان کی عدالت میں یہ مقدمہ پیش ہوا۔ایک انگریز کہلانے والے شخص نے جو انگریز مشہور تھا مگر دراصل انگریز نہیں پٹھان تھا یہ مقدمہ کیا تھا۔اس کے انگریز کہلانے کی وجہ یہ تھی کہ پٹھان ہونے کے سبب سے اُس کا رنگ انگریزوں کی طرح گورا تھا اور پھر ایک انگریز نے اسے بیٹا بنایا ہوا تھا اس لئے لوگ اُسے انگریز سمجھتے تھے۔اُس کا نام مارٹن کلارک تھا ان کا بیٹا یا بھائی ابی سینا کی سابق حکومت میں وزیر اعظم تھا۔آپ میں سے کئی ایک نے اخباروں میں پڑھا ہوگا کہ مسٹر مارٹن نے یہ کہا۔یہ مارٹن اسی مارٹن کلارک کا بیٹ ہے یا بھائی۔رشتہ کی تعیین میں اس وقت نہیں کر سکتا۔ان مسٹر مارٹن کلارک نے عدالت میں یہ دعویٰ کیا کہ میرے قتل کیلئے مرزا صاحب نے ایک آدمی بھیجا ہے مسلمانوں میں علماء کہلانے والے بھی اس کے ساتھ اس شور میں شامل ہو گئے۔چنانچہ مولوی محمد حسین بٹالوی صاحب تو اس