خطبات محمود (جلد 17) — Page 552
خطبات محمود ۵۵۲ سال ۱۹۳۶ ثابت ہو یا نہ ہوسز ا ضرور دینا چاہتے ہیں تا رُعب قائم ہو۔اسے خیال آیا کہ میر حامد شاہ صاحب میرے دفتر کے سپرنٹنڈنٹ ہیں اگر میں ان کے لڑکے کو سزا دوں گا تو میرے انصاف کی دھوم مچ جائے گی اس لئے شاہ صاحب کو بلایا اور پوچھا کہ کیا واقعی آپ کے لڑکے نے قتل کیا ہے؟ آپ نے فرمایا میں تو وہاں موجود نہ تھا لیکن سنا ہے کہ کیا ہے۔اس نے کہا کہ آپ اسے بلا کر کہہ دیں کہ وہ اقرار کر لے تا لوگوں کو معلوم ہو جائے کہ ہم کسی کا لحاظ نہیں کرتے۔آپ نے اپنے لڑکے کو بلا کر پوچھا کہ تم نے اس شخص کو مارا ہے؟ اُس نے کہا ہاں مارا ہے۔آپ نے فرمایا پھر سچی بات کا اقرار کرلو۔لوگوں نے کہا کہ کیوں اپنے جوان لڑکے کو پھانسی پر لٹکوا نا چاہتے ہو مگر آپ نے فرمایا کہ اس دنیا کی سزا سے اگلی دنیا کی سزا زیادہ سخت ہے اور اپنے بیٹے کو یہی نصیحت کی کہ اقرار کر لے۔خدا کی قدرت اس نے اقرار تو کر لیا مگر وہ لڑکا کرکٹ کا کھلاڑی تھا اور وہ مجسٹریٹ جس کے پاس مقدمہ تھا وہ بھی کرکٹ کا کھیلنے والا تھا اسے کرکٹ کلب میں معاملہ کی حقیقت معلوم ہوگئی اور چونکہ قانون کی ایسا ہے کہ اگر مجسٹریٹ کو کسی بات کا یقین ہو جائے تو ملزم سے کچھ پوچھنے کی بھی ضرورت نہیں رہتی اُس نے خود ہی پولیس کے گواہوں پر ایسی جرح کی کہ اس لڑکے کی بریت ثابت ہوگئی اور اس نے کی اس سے کچھ پوچھے بغیر ہی اسے رہا کر دیا۔اسی قسم کا ایک مقدمہ پچھلے دنوں چوہدری ظفر اللہ خان صاحب کے بھائی پر ہوا۔چوہدری صاحب اس وقت ولایت میں تھے انہوں نے اپنے بھائی کولکھا کہ یہ ایمان کی آزمائش کا وقت ہے اگر تم سے قصور ہوا ہے تو میں تمہارا بڑا بھائی ہونے کی حیثیت سے تمہیں نصیحت کرتا ہوں کہ اس دنیا کی سزا سے اگلے جہان کی سزا زیادہ سخت ہے اس لئے اسے برداشت کر لو اور سچی بات کہہ دو۔تو جو بات ایک شخص کر سکتا ہے کوئی وجہ نہیں کہ دوسرا نہ کر سکے صرف اخلاص اور ایمان کی ضرورت ہے۔سیالکوٹ کے رہنے والے ہمارے ایک دوست ہیں جو بھی زندہ ہیں احمدی ہونے کے بعد ب انہیں معلوم ہوا کہ رشوت لینا اسلامی تعلیم کے خلاف ہے تو انہوں نے تمام ان لوگوں کے گھروں میں جا جا کر جن سے وہ رشوتیں لے چکے تھے واپس کیں۔اس سے وہ بہت زیر بار بھی ނ ہو گئے مگر اس کی انہوں نے کوئی پرواہ نہ کی۔تو ہماری جماعت میں ہر قسم کے اعمال کے لحاظ ایسے نمونے ملتے ہیں جن کے متعلق کہا جا سکتا ہے کہ وہ صحابہ کے نمونے ہیں لیکن ہمیں ان پر خوش