خطبات محمود (جلد 17) — Page 457
خطبات محمود ۴۵۷ سال ۱۹۳۶ مشاہدہ اور رؤیت کے طور پر خدا تعالیٰ کی ہستی کا ثبوت دے سکتا ہوا سے خشک دلائل سے خدا تعالیٰ کے وجود کو ثابت کرنے کی کیا ضرورت ہے۔کوئی احمق ہی ہوگا کہ جب اُس سے ایسی حالت میں جبکہ سورج چڑھا ہوا ہو سورج کے چڑھنے کا ثبوت مانگا جائے تو وہ دلائل دینا شروع کر دے اور کہنے لگ جائے کہ سورج کی روشنی سفید ہوتی ہے، جب اُس کی روشنی زمین پر پھیلتی ہے تو ہر چیز نظر آنے لگتی ہے، اتنے بجے چڑھتا ہے اور اتنے بجے غروب ہوتا ہے۔کیا دنیا میں تم نے کوئی ایسا گدھا اور بیوقوف بھی دیکھا ہے جو سورج کی موجودگی میں سورج کے چڑھنے کے دلائل دیتا ہو۔ایسی حالت میں تو جب کوئی سورج کے طلوع ہونے کا ثبوت مانگے ایک ہی علاج ہوتا ہے اور وہ یہ کہ اُس کی ٹھوڑی کے نیچے ہاتھ رکھ کر اُس کا منہ سورج کی طرف کر دو اور کہو دیکھ لو یہ سورج ہے۔خدا تعالیٰ بھی اس وقت ہمارے سامنے جلوہ گر ہے، وہ بھی عریاں ہو کر اپنی تمام صفات کے ساتھ دنیا کے سامنے رونما ہو گیا ہے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ذریعہ وہ اپنے سارے حسن کے ساتھ جلوہ نما ہے ایسی حالت میں اگر ہمارے واعظ اور مبلغ خشک دلائل دینے میں لگے رہتے ہیں تو اُن جیسا احمق اور بیوقوف کون ہوسکتا ہے۔ایسی صورت میں تو ایک ہی علاج ہوسکتا ہے اور وہ یہ کہ لوگوں کے کلے پکڑ کر اُن کی آنکھیں اوپر کو اٹھا دی جائیں اور کہا جائے دیکھ لو وہ خدا ہے جس نے اپنے تازہ نشانات سے دنیا پر اپنے وجود کو ثابت کیا ہے۔یہی چیز ہے جو جماعت کی عملی قوت کو مضبوط کر سکتی ہے۔تم بچوں ، جوانوں، مردوں ، عورتوں اور نو وارد احمدیوں کے سامنے یہ باتیں پیش کرو۔انہیں بتاؤ کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ذریعہ کس طرح اللہ تعالیٰ کا جلال ظاہر ہوا ، انہیں سمجھاؤ کہ خدا تعالیٰ کا قرب حاصل کرنے کے کیا ذرائع ہیں اور اللہ تعالیٰ کی محبت کس طرح حاصل ہو سکتی ہے۔پھر دیکھو گے کہ وہی لڑکے جو دھاری دار صدریوں کی نقل کرنے کا شوق رکھتے ہیں خدا تعالیٰ سے ملنے کی تڑپ بھی اپنے دلوں میں پیدا کریں گے اور اس کے قرب میں بڑھتے چلے جائیں گے۔پھر جن میں علم کی کمی ہے اس ذریعہ سے ان کی علمی کمی بھی دور ہو جائے گی۔اب تو ایسا ہوتا ہے کہ بعض دفعہ ایک معمولی سی بات پر ہم میں سے کسی کو ابتلاء آ جاتا ہے۔مثلاً پانچ روپے اس نے کسی کے دینے تھے مگر وہ دیتا نہیں تھا خلیفہ وقت کے سامنے معاملہ پیش ہوا تو اس نے پانچ روپے لے کر اس مستحق کو دلوا دئیے پس اتنی سے بات پر اُسے ابتلاء آ جاتا ہے اور وہ لوگوں سے کہنا شروع کی