خطبات محمود (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 458 of 772

خطبات محمود (جلد 17) — Page 458

خطبات محمود ۴۵۸ سال ۱۹۳۶ کر دیتا ہے کہ خلیفہ نے پانچ روپے مجھ سے ناحق لے کر دوسرے کو دے دیئے۔یہ الگ سوال ہے کہ وہ پانچ روپے اس کے نہیں تھے بلکہ دوسرے ہی کے تھے بلکہ سوال یہ ہے کہ اگر مبلغین اور واعظین کے ذریعہ بار بار جماعتوں کے کانوں میں یہ آواز پڑتی رہے کہ پانچ روپیہ کیا ، پانچ ہزار روپیہ کیا ، پانچ لاکھ روپیہ کیا، پانچ ارب روپیہ کیا اگر ساری دنیا کی جانیں بھی خلیفہ کے ایک حکم کے آگے قربان کر دی جاتی ہیں تو وہ بے حقیقت اور نا قابل ذکر چیز ہیں تو اس قسم کے ابتلاء جماعت کے لوگوں پر کیوں آئیں۔پھر اگر انہیں بار بار بتایا جائے کہ ساری برکت نظام میں ہے، انہیں سمجھایا جائے کہ جس وقت اللہ تعالیٰ کسی قوم میں سے نظام اٹھا لیتا ہے تو اس کے معنی یہ ہوتے ہیں کہ خدا تعالیٰ اس قوم پر اپنی لعنت ڈالنا چاہتا ہے۔اگر یہ باتیں ہر مر د، ہر عورت ، ہر بچے اور ہر بوڑھے کے ذہن نشین کی جائیں اور ان کے دلوں پر ان کا نقش کیا جائے تو وہ ٹھوکر میں جو عدم علم کی وجہ سے لوگ کھاتے ہیں کیوں کھا ئیں۔مگر قادیان میں ہی بعض مجلسوں میں یہ تو سننے میں آ جائے گا کہ خلیفہ خدا تھوڑا ہی ہوتا ہے وہ بھی غلطی کر سکتا ہے جیسے عام انسان غلطی کر سکتے ہیں۔مگر اس قسم کے الفاظ لوگوں کے منہ سے کم سنائی دیں گے کہ خدا تعالیٰ خود قرآن مجید میں فرماتا ہے کہ خلفاء جن امور کا فیصلہ کیا کرتے ہیں ہم ان امور کو دنیا میں قائم کر کے رہتے ہیں۔وہ فرماتا ہے وَلَيُمَكِّنَنَّ لَهُمْ دِينَهُمُ الَّذِي ارْتَضَى لَهُمُ سے یعنی وہ دین اور وہ اصول جو خلفاء دنیا میں قائم کرنا چاہتے ہیں ہم اپنی ذات کی ہی قسم کھا کر کہتے ہیں کہ ہم انہیں دنیا میں قائم کر کے رہیں گے۔پس اگر یہ باتیں لوگوں کو سنائی جائیں تو کیوں معمولی معمولی باتوں پر وہ ٹھوکریں کھا ئیں۔پس سب سے اہم ذمہ داری علماء پر عائد ہوتی ہے مگر مجھے افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ حافظ روشن علی صاحب مرحوم کے بعد اور کوئی عالم ایسا نہیں نکلا جس نے اس ذمہ داری کو پوری طرح سمجھا ہو۔حافظ روشن علی صاحب مرحوم صرف ایک عالم ہی نہیں تھے بلکہ انہیں لوگوں کی اصلاح کا خیال رہتا تھا اور وہ ہر معاملہ میں دخل دیتے تھے اور چاہتے تھے کہ لوگوں میں کوئی خرابی پیدا نہ ہو حالانکہ انہیں کوئی غیر معمولی طاقتیں حاصل نہیں تھیں، ان کی نظر کمزور تھی اور ان کے قومی بھی کمزور تھے مگر چونکہ ان کی قوت ارادی اور ایمان بہت مضبوط تھا اس لئے وہ سب کام بخوبی کرتے تھے۔اگر ہمارے علماء اس طرف توجہ کریں اور اپنے لوگوں کی عملی اصلاح کو وہ غیروں کے عقیدوں کی