خطبات محمود (جلد 17) — Page 442
خطبات محمود ۴۴۲ سال ۱۹۳۶ دنیا میں کون ہے جس کیلئے میں زندہ رہوں۔اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اس مایوسی کی وجہ سے اس کی بیماری بڑھتی چلی جاتی ہے۔لیکن فرض کرو کہ اس کے بعد جبکہ وہ بالکل کمزور ہو چکی ہوتی ہے یکدم اُسے گورنمنٹ کی طرف سے تار پہنچتا ہے کہ تمہارا بیٹا زندہ ہے پہلے غلطی سے اس کی موت کی اطلاع تمہیں بھیجی گئی تھی اس تار کے ملتے ہی وہ بیماری کا مقابلہ کرنا شروع کر دے گی۔دوائیں اُسے موافق آنے لگ جائیں گی ، غذا ئیں اس کے انگ لگنی شروع ہو جائیں گی اور وہ تھوڑے ہی دنوں کی میں اچھی بھلی ہو جائے گی۔ایسے واقعات بکثرت دنیا میں ہوتے رہتے ہیں اور اس کی وجہ یہی ہوتی ہے کہ ایسے لوگوں میں طاقت تو موجود ہوتی ہے لیکن وہ اسے استعمال نہیں کرتے۔بعض دفعہ اس کی کے الٹ مثالیں بھی مل جاتی ہیں۔مثلاً چند دن ہی ہوئے ایک عورت کو رات کے وقت سانپ نے ی کا ٹا ، اُس نے ایک معمولی کیڑا سمجھ کر پر واہ بھی نہ کی ، وہ بالکل اچھی بھلی اپنا کام کرتی رہی لیکن دن کو اُسے معلوم ہوا کہ جس چیز نے اُسے کاٹا تھا وہ سانپ تھا اور وہ فوراً مر گئی۔یہ واقعہ بھی قوت ارادی کی طاقت کا ہے خود زہر شدید نہ تھا بوجہ ناواقفیت کے اس کی تمام قوت ارادی اپنا کام کرتی رہی لیکن جب اُسے معلوم ہوا کہ کاٹنے والی چیز سانپ تھی تو اُس نے ہمت ہار دی اور خیال کیا کہ سانپ کے زہر کا مقابلہ نہیں ہو سکتا اور اس طرح ہتھیار پھینک دینے سے عورت کی ہلاکت واقع ہوئی۔دوسری صورت یہ ہوتی ہے کہ ایک شخص ملیریا سے بیمار ہے، کونین اس کے پاس موجود ہے، اس کا ارادہ بھی ہے کہ میں اچھا ہو جاؤں لیکن نقص یہ ہے کہ اسے علم نہیں کہ کو نین ملیر یا کو دور کر دیتی ہی ہے۔اس عدم علم کی وجہ سے باوجود اس کے کہ اس کا دل چاہتا ہے میں اچھا ہو جاؤں وہ اچھا نہیں ہو سکے گا کیونکہ اسے علم نہیں کہ کو نین ملیریا کو دور کرتی ہے اور اس وجہ سے وہ اس کا استعمال نہیں کرتا۔یا ایک شخص کے پاس ایک مٹکا پڑا ہوا ہے پہلے اس میں پانی تھا لیکن بعد میں ختم ہو گیا ، یہ دیکھ کر کسی ہمسائے نے اس میں پانی ڈال دیا لیکن اُسے اس بات کا علم نہیں ، اسے سخت پیاس لگی ہوئی ہے اور وہ سمجھتا ہے کہ ملکے میں تو پانی نہیں میں کہاں سے پیوں، نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ عدم علم کی وجہ سے باوجود مکے میں پانی موجود ہونے کے پیاسا رہتا ہے۔مگر تیسری صورت یہ ہے کہ پانی ہے ہی نہیں جس سے وہ اپنی پیاس بجھا سکے۔تمہیں کتنی ہی خواہش ہو کہ اگر پانی ملے تو میں اس سے اپنی پیاس بجھاؤں تمہیں کتنا ہی علم ہو کہ پانی پیاس بجھانے کے کام آتا ہے لیکن اگر تم ایسے جنگل میں ہو تی