خطبات محمود (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 433 of 772

خطبات محمود (جلد 17) — Page 433

خطبات محمود ۴۳۳ سال ۱۹۳۶ علاج ہوگا۔ہر احمدی اس بات پر غور کرے اور یقیناً آپ میں سے ہر ایک کا دل یہی گواہی دے گا کہ ہمارے ارادہ میں کمی نہیں ، ارادہ اعمال کی اصلاح کے متعلق بھی ویسا ہی ہے جیسے عقائد کی اصلاح کے بارہ میں نقص قوت متاثرہ میں ہے۔جن پر ہمارے ارادہ نے اثر انداز ہونا ہے ان کی میں نقص ہے۔ہمارے پاس چاقو موجود ہے مگر جس چیز کو اس سے کاٹنا ہے وہ اس سے زیادہ سخت ہے۔یا ہمیں اس کو نرم کرنا پڑے گا اور یا پھر چاقو کو تیز کرنا ہوگا اس کے سوا چارہ نہیں۔سخت چیز کو نرم کر کے بھی اس سے فائدہ اُٹھایا جاسکتا ہے جیسے سونا چاندی ہے اس کا کشتہ بنا لیا جاتا ہے۔لوہ کتنی سخت چیز ہے مگر اس کا بھی کشتہ بنالیا جاتا ہے پس یا تو قوت ارادی کو زیادہ مضبوط کرو اور یا پھر قوت متاثرہ کے نقص کو دور کرو۔یہی دو علاج ہیں۔اگر ہم اپنے ارادوں میں اتنی طاقت پیدا کرلیں کہ وہ سب روکوں کو مٹادے تو پھر بھی ہم کامیاب ہو سکتے ہیں اور ایسی قوتِ ارادی ایمان سے ہی پیدا ہوسکتی ہے۔ایمان جس قدر مضبوط ہوگا اسی قدر قوتِ ارادی مضبوط ہوگی اگر ایمان کمزور ہو تو قوت ارادی بھی کمزور ہوگی۔حضرت مسیح ناصری نے فرمایا کہ اگر تمہارے اندر رائی کے دانے کے برابر بھی ایمان ہو تو تم پہاڑوں کو چلا سکتے ہو مگر جب تک یہ مقام حاصل نہ ہو اُس وقت تک جد و جہد کی بہت زیادہ ضرورت ہے۔بے شک یہ ہو سکتا ہے کہ خدا تعالیٰ ہم میں سے بعض کو وہ مقام دے دے کہ ہم جو چاہیں ہو جائے مگر ساری جماعت یہ مقام حاصل نہیں کر سکتی۔باقیوں کیلئے جد و جہد کی ضرورت پھر بھی باقی رہے گی اور اس کیلئے ہم کو غور کرنا چاہئے کہ وہ کونسی تدابیر ہیں جن سے ساری جماعت کامیابی کا منہ دیکھ سکے اور ان روکوں کو مدنظر رکھتے ہوئے جو ہمارے رستہ میں ہیں ایسے علاج تجویز کرنے چاہئیں کہ باوجود ان کے ہم کامیاب ہو سکیں۔وہ تدابیر کیا ہیں؟ ان کی کی تفاصیل تو میں ابھی بیان نہیں کر سکتا ہاں اجمالی طور پر اس کا ذکر اگر اللہ تعالیٰ نے توفیق دی تو آئندہ خطبہ میں کردوں گا اور باقی کو اُس وقت تک ملتوی رکھوں گا جب تک کہ اللہ تعالیٰ کی توفیق۔جماعت پہلا قدم اُٹھا لے۔( الفضل اار جولائی ۱۹۳۶ء) فیض کیپ (FEZ CAP) ترکی ٹوپی تاريخ الخلفاء للسيوطى صفحه ۵۱، مطبوعہ لاہور ۱۸۹۲ء سے ابوداؤد کتاب اللباس باب في لبس الشهرة