خطبات محمود (جلد 17) — Page 40
خطبات محمود ۴۰ سال ۱۹۳۶ء بالکل حصہ نہ لے سکتے ہوں یا گزشتہ سال سے کم لے سکتے ہوں ان کی کمی کو دوسروں کی زیادتی پورا کر دے اور جیسا کہ ہماری پہلی تحریکوں کا حال ہوتا چلا آیا ہے یعنی ہمارا ہر کام اللہ تعالیٰ کے فضل سے گزشتہ سے بڑھ کر ہوتا ہے اس سال کے وعدے گزشتہ سال کے وعدوں سے بڑھ جائیں۔سو آج میں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ میں نے جو خیال کیا تھا کہ ایک حصہ دوستوں کا اِس سال حصہ نہیں لے سکے گا یا اتنا نہیں لے سکے گا وہ احتیاط درست ثابت ہوئی ہے۔جن دوستوں نے گزشتہ سال سارا اندوختہ چندہ میں دے دیا تھا ان کے متعلق تو ظاہر ہی ہے کہ وہ اس رنگ میں اس سال حصہ نہیں لے سکتے تھے ان کے علاوہ اور بھی ایسے دوست ہیں جو گزشتہ سال زیادہ بوجھ اُٹھا لینے کی وجہ سے دیگر مجبوریوں کے باعث اس سال حصہ نہیں لے سکے یا کم لے سکے ہیں۔ایسے دوستوں کی تعداد غالباً کئی سو ہے لیکن اس احتیاط کے ماتحت جس کے لئے میں نے دوستوں کو توجہ دلائی تھی اللہ تعالیٰ کے فضل سے یہ تحریک جو علاوہ عام چندوں کے تھی اور ایک زائد بوجھ تھا گو اختیاری ہی تھا ہماری دوسری تحریکوں کی طرح آگے سے بڑھ کر کامیاب ہوئی ہے۔یعنی پچھلے سال ایک لاکھ سات ہزار کے وعدے جون تک ہوئے تھے جبکہ بیرون ممالک کی جماعتوں کے وعدے بھی پہنچ گئے تھے لیکن اس سال گل تک ایک لاکھ ساڑھے دس ہزار کے وعدے آچکے تھے۔حالانکہ ہندوستان کی جماعتوں سے بھی ابھی وعدے آنے کے چار دن باقی ہیں۔سولہ تاریخ کے پوسٹ کئے ہوئے خطوط کی منظوری کا اعلان میں نے کیا ہوا ہے اور ہندوستان کے کئی حصے ایسے ہیں جہاں سے چوتھے، پانچویں روز خط یہاں پہنچتا ہے۔اس لئے پندرہ یا سولہ کے بھیجے ہوئے وعدے ۲۱ تک موصول ہوتے رہیں گے۔میں یہ ذکر بھی کر دینا چاہتا ہوں کہ اس سال بیرون ہند کی بعض جماعتوں کے وعدے جلد وصول ہو گئے ہیں کیونکہ دوستوں کو پہلے سے یہ خیال تھا کہ تحریک ہوگی اور وہ اس کیلئے تیار تھے۔مشرقی افریقہ جہاں جماعت اچھی تعداد اور اچھی حیثیت میں ہے وہاں سے بیشتر حصہ جماعت کے وعدے آچکے ہیں جو پچھلے سال اس وقت تک وصول نہیں ہوئے تھے اس لئے باہر سے اب اتنے ہی وعدوں کی امید نہیں جتنے گزشتہ سال آئے تھے پھر بھی امید ہے کہ اس سال کے وعدے ایک لاکھ پندرہ ہزار تک پہنچ جائیں گے۔گویا اس سال آٹھ فیصدی کی زیادتی ہوگی باوجود اس کے کہ کئی