خطبات محمود (جلد 17) — Page 386
خطبات محمود ۳۸۶ سال ۱۹۳۶ء اس مثال کو مد نظر رکھتے ہوئے جب گھروں پر نظر دوڑائی جائے تو معلوم ہوگا کہ ہر گھر میں صرف ایک آدمی کا کمایا ہوا مال نہیں آتا بلکہ اس میں کچھ حصہ باپ کا ہوتا ہے، کچھ بیٹے کا حصہ ہوتا ہے، کچھ بیوی کا حصہ ہوتا ہے، زمینداروں میں خصوصاً یہ بات پائی جاتی ہے کہ خاوند زمینداری کرتا ہے اور بیوی بھی گھی بیچ رہی ہوتی ہے یا انڈے بیچ رہی ہوتی ہے یا مرغیاں بیچ رہی ہوتی ہے اور اس میں بیسیوں ٹھگی کے موقعے اسے ملتے رہتے ہیں۔اب خاوند خواہ کتنی دیانتداری۔زمینداری کرے اگر اس کی بیوی حرام خوری کرتی ہے یا بیوی تو دیانت دار ہے مگر خاوند بد دیانت ہے، بیوی تو صاف ستھرا گھی لاتی اور نہایت مناسب قیمت پر اسے فروخت کرتی ہے لیکن خاوند اپنے کام میں بددیانتی کرتا اور حرام مال کما کما کر گھر میں لاتا ہے تو اس صورت میں ان کی روزی حلال کی روزی نہیں رہ سکتی کیونکہ اس میں حرام رزق شامل ہوتارہتا ہے۔تو عقیدہ الگ رکھا جا سکتا ہے مگر عمل الگ نہیں رکھا جا سکتا اس لئے عمل اُس وقت تک درست نہیں ہوسکتا جب تک سارے خاندان کے اعمال درست نہ ہوں اور سارے خاندان کے اعمال درست کرنے میں پھر دقتیں پیش آجاتی ہیں۔مثلاً عبادت ہے۔جب یہ صبح اپنے بچے کو نماز کیلئے جگانے لگتا ہے اس وقت فوراً جذبات محبت اس کے سامنے آ جاتے ہیں اور دل میں کہتا ہے سخت سردی ہے میں اسے کیوں جگاؤں اگر نماز کیلئے جگایا تو اسے سردی لگ جائے گی۔پھر وہ بیوی کو نماز کیلئے جگانے لگتا ہے تو اُس وقت بھی محبت کے جذبات اُس کے سامنے آجاتے ہیں اور وہ کہتا ہے ساری رات یہ بچے کو اٹھا کر پھرتی رہی ہے اب میں اسے جگاؤں گا تو اس کی نیند خراب ہو جائے گی بہتر ہے کہ یہ سوئی رہے نماز پھر پڑھ لے گی لیکن جب وہ کہتا ہے کہ اللہ ایک ہے تو اس کے سامنے سردی گرمی کا سوال نہیں آتا۔وہ کہتا ہے بیوی کہو اللہ ایک ہے اور بیوی کہ دیتی ہے اللہ ایک ہے ، وہ کہتا ہے بیٹا کہو لَا اِلهَ إِلَّا اللهُ اور بیٹا کہ دیتا ہے لا الہ الا اللہ۔لیکن جب نماز کا سوال آتا ہے تو نماز چونکہ قربانی کا مطالبہ کرتی ہے اس لئے کبھی سخت سردی اور کبھی سخت گرمی کاغذ راُس کے سامنے آجاتا ہے۔چھ مہینے اس کے سامنے یہ سوال رہتا ہے کہ سخت سردی ہے ان ایام میں بچہ کو نماز کیلئے کیوں جگاؤں اسے سردی لگن جائے گی اور چھ مہینے اس کے سامنے یہ سوال رہتا ہے کہ نازک اور پھول سا بچہ ہے نماز پڑھنے گیا تو اسے گرمی لگ جائے گی۔پھر کبھی بیوی کو جگاتے وقت یہ خیال آجاتا ہے کہ یہ ساری رات تو بچے کو