خطبات محمود (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 385 of 772

خطبات محمود (جلد 17) — Page 385

خطبات محمود ۳۸۵ سال ۱۹۳۶ء ٹوٹتی رہتی ہے یا اس کا بچہ رشوت کا مال گھر میں لاتا رہتا ہے تو اس کی روزی حلال بن کس طرح سکتی ہے؟ عقیدہ ایسی چیز نہیں کہ اسے اکٹھا کیا جا سکے اس لئے یہ ہو سکتا ہے کہ خاوند کا کوئی اور عقیدہ ہو اور بیوی کا اور لیکن اعمال میں یہ بات نہیں ہوتی اعمال کا ایک دوسرے پر اثر پڑتا ہے اور اس لحاظ سے ضروری ہے کہ سب خاندان کے اعمال درست ہوں۔جیسے ایک شخص خواہ کتنی ہی دیانت سے روپیہ کمائے وہ حلال کی روزی اُس وقت تک کہلا ہی نہیں سکتی جب تک اس کی بیوی اور اس کے بچوں کا کمایا ہؤا روپیہ بھی حلال نہ ہو کیونکہ روپیہ نے ایک جگہ جمع ہونا اور اکٹھا خرچ ہونا ہوتا ہے اور اگر حلال میں حرام مال ملتا ر ہے تو وہ ساری کمائی کو خراب کر دیتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ میں ایک دوست ولایت گئے جب وہاں۔واپس آئے تو انہوں نے سنایا کہ جس گھر میں میں رہتا تھا میں نے اس کی مالکہ کو سختی سے کہا ہوا تھا کہ میں سور کا گوشت نہیں کھایا کرتا میرے لئے الگ بکرے کا گوشت پکایا کرو۔وہ کچھ مدت تک مجھے گوشت کھلاتی رہی کہ یہ سور کا گوشت نہیں بکرے کا ہے۔ایک دن میں اتفاقاً باورچی خانہ میں چلا گیا تو کیا دیکھتا ہوں کہ وہ کانٹے سے ایک بڑے برتن میں سے ایک ایک بوٹی نکالتی اور دوسرے برتن میں ڈالتی جاتی ہے۔میں نے کہا یہ کیا کرتی ہو؟ وہ کہنے لگی تم جو کہتے ہو کہ میں سور کا گوشت نہیں کھاتا میں تمہارے لئے بکرے کی بوٹیاں سور کی بوٹیوں میں سے الگ کر رہی ہوں۔اُس دن معلوم ہوا کہ وہ سور اور بکرے کا گوشت ایک ہی برتن میں پکاتی۔بکرے کی بوٹیاں امتیاز کیلئے ذرا چھوٹی رکھاتی اور جب گوشت پک جاتا تو بکرے کی بوٹیاں الگ کر کے انہیں کھلا دیتی۔اس دوست نے ذکر کیا کہ اس پر میں اُس سے سخت ناراض ہوا اور کہا کہ تم تو مجھ کو حرام کھلاتی رہی سور کے گوشت کے ساتھ دوسرا گوشت پکانا منع ہے۔یہ سن کر وہ بہت بگڑی مگر آخر کہنے لگی اچھا میں تمہارے لئے بکرے کا گوشت الگ برتن میں پکایا کروں گی۔وہ کہنے لگے چند دنوں کے بعد پھر جو میں باورچی خانہ میں گیا تو کیا دیکھتا ہوں کہ دو ہنڈیاں چڑھی ہوئی ہیں ایک میں سور کا گوشت ہے اور دوسرے میں بکرے کا۔اس کے پاس ایک چمچہ ہے وہ کبھی ایک ہنڈیا میں پھیرتی ہے اور کبھی دوسری میں۔اس پر میں نے پھر اُسے منع کیا تو وہ ناراض ہوگئی اور کہنے لگی میں اس احتیاط کی قائل نہیں بھلا سور کے گوشت والا چمچہ بکرے کے گوشت میں پھیرنے سے کیا نقصان ہو جاتا ہے۔ہو،