خطبات محمود (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 369 of 772

خطبات محمود (جلد 17) — Page 369

خطبات محمود ۳۶۹ سال ۱۹۳۶ء اونچی رکھتا تھا اب نسوار کی وجہ سے کس قدر لجاجت پر اُتر آیا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ میں کچھ دوست یہاں آیا کرتے تھے جن کو حقہ پینے کی عادت تھی۔یہاں اور تو کسی جگہ حقہ ہوتا نہیں تھا ہمارے ایک تایا تھے جو سخت دہر یہ تھے اور دین سے بالکل تعلق نہیں رکھتے تھے ان کے پاس حقہ کیلئے چلے جاتے اور مجبوراً ان کی باتیں سنتے۔ہمارے وہ تایا ایسے شخص تھے کہ ایک دفعہ حضرت خلیفہ اول نے ان سے پوچھا کہ آپ نے کبھی نماز بھی پڑھی ہے؟ تو انہوں نے جواب دیا کہ میں بچپن سے ہی سلیم الطبع ہوں میں بچپن میں بھی جب کسی کو سر نیچے کرتے دیکھتا تو ہنسا کرتا تھا مراد نماز سے تھی۔وہ بھنگ بھی پیا کرتے تھے تو ہمارے بعض دوست حقہ کیلئے اُن کی مجلس میں چلے جاتے تھے اور ایسی ایسی باتیں جو وہ سلسلہ اور اسلام کے خلاف کرتے مجبوراً سنتے تھے۔ایک دوست نے سنایا کہ ایک دفعہ ایک احمدی وہاں آ گیا اور پھر اپنے آپ کو گالیاں دیتا ہوا واپس آیا۔کسی دوست نے پوچھا کیا بات ہے؟ تو کہنے لگا اس لئے اپنے آپ کو بُرا بھلا کہہ رہا ہوں کہ حقہ کی خاطر نفس نے مجھے ایسی باتیں سننے پر مجبور کیا۔تو عادتوں کو چھوڑنا بڑا مشکل ہوتا ہے بعض لوگوں کو جھوٹ بولنے کی عادت ہوتی ہے انہیں لاکھ سمجھاؤ، کتنی نگرانی کرو مگر پھر بھی وہ ضرور جھوٹ بولیں گے ان کی اصلاح مشکل ہوتی ہے۔یہ نہیں کہ ہوتی نہیں کیونکہ اگر نہ ہو سکتی تو میں یہ خطبات ہی کیوں بیان کرتا مگر یہ کام ان کیلئے بڑا مشکل ہوتا ہے۔ایسے لوگ جب بات کرنے لگتے ہیں تو عادت کی وجہ سے ان کے دماغ میں ایک ایسی چمک پیدا ہو جاتی ہے کہ وہ سمجھتے ہیں کہ بغیر جھوٹ کے بات کا مزا نہ ہم کو آئے گا اور نہ سننے والے کو۔پھر بعض لوگوں کو چسکے کی عادت ہوتی ہے اور اس عادت کی وجہ سے بعض لوگ بڑی بڑی بے غیرتیاں کرتے ہیں۔قادیان میں ایسے دس بارہ لڑکے ہیں جو دو دو چار چار پیسوں کیلئے احمدیوں کی جھوٹی سچی خبر میں احراریوں کو جا کر دیتے ہیں۔انہیں مٹھائی کھانے کی عادت پڑی ہوئی ہے گھر سے پیسے مل نہیں سکتے اس لئے وہ خوامخواہ جھوٹی باتیں جا کر دشمنوں سے کہتے ہیں۔تو عادت ایسی چیز ہے کہ اس کی اصلاح کیلئے بڑی جدوجہد کی ضرورت ہوتی ہے لیکن عقیدہ میں عادت کا دخل نہیں ہوتا۔پس عقیدہ کے مقابل پر عمل کی اصلاح کو جو اسباب مشکل بنا دیتے ہیں ان میں۔ایک عادت بھی ہے اور اس کا مقابلہ کرنا نہایت ضروری ہے۔ނ