خطبات محمود (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 340 of 772

خطبات محمود (جلد 17) — Page 340

خطبات محمود ۳۴۰ سال ۱۹۳۶ء نیکی نہیں اور اگر ماں باپ کی اطاعت سب سے بڑی نیکی ہے تو تہجد سب سے بڑی نیکی نہیں مگر رسول کریم ہے ان میں سے ہر ایک کو بڑی نیکی قرار دیتے ہیں۔اب سوال یہ ہے کہ رسول کریم کا نشاء کیا تھا؟ صاف ظاہر ہے کہ آپ کا منشاء سب سے بڑی نیکی سے وہ نہ تھا جو عرف عام میں سمجھا جاتا ہے بلکہ آپ کا منشاء یہ تھا کہ در حقیقت ہر انسان کیلئے سب سے بڑا کام الگ الگ ہؤا کرتا ہے۔ایک انسان ایسا ہوتا ہے جس کے دل میں ماں باپ کی عظمت نہیں ہوتی لیکن وہ روپیہ اُڑا دینے کا عادی ہوتا ہے اگر اسے خدا تعالیٰ کے دین کی راہ میں روپیہ خرچ کرنے کے ثواب کا علم نہ ہو تب بھی وہ دنیوی کاموں پر روپیہ اڑا دینے کی عادت رکھتا ہے۔چنانچہ ایسے لوگ دنیا میں پائے جاتے ہیں جو کن چنیوں کے نارچ پر اپنی جائداد میں دے دیتے ہیں۔ایسے لوگ دُنیا میں پائے جاتے ہیں جو ڈوموں کے لطیفوں پر اپنے قیمتی اموال لگا دیتے ہیں، ایسے لوگ پائے جاتے ہیں جو آدھ گھنٹہ کے جُوا کی خاطر اپنی جائدادیں برباد کر دیتے ہیں، ایسا انسان اگر خدا تعالیٰ کی راہ میں اپنی جائداد دے دیتا ہے تو وہ کونسا بڑا کام کرتا ہے اُس کے نزدیک تو جائداد کی کوئی قیمت ہی نہیں کہ اُس کی اس نیکی کو بڑی نیکی قرار دیا جا سکے۔ایسے انسان کی سب سے بڑی نیکی یہ ہے کہ وہ جوئے سے تو بہ کرے۔ایسے شخص کیلئے چوری سب سے بُرا فعل نہیں کیونکہ چوری کی طرف اسے رغبت نہیں ، ایسے شخص کیلئے سب سے بڑا گناہ ظلم نہیں کیونکہ ظلم کی طرف اسے توجہ نہیں ، ایسے شخص کیلئے سب سے بڑا گناہ جھوٹ نہیں کیونکہ جھوٹ سے اسے کوئی دلچسپی نہیں ، ایسے شخص کیلئے۔سے بڑا گنا قتل نہیں کیونکہ قتل کا جذ بہ اُس کے دل میں کبھی پیدا ہی نہیں ہوتا، ایسے شخص کا سب سے بڑا گناہ جو اُ ہے کیونکہ بڑا گناہ وہی ہے جس کی عادت ہو جائے اور جس کا چھوڑ نا انسان کو مشکل معلوم ہو۔اس تعریف کے مطابق ایک ایسا انسان بھی ہو سکتا ہے جس کا سب سے بڑا گناہ یہ ہو کہ وہ مونچھیں نہیں تر شوا تا۔وہ چور بھی نہیں ہو گا ، وہ ڈا کو بھی نہیں ہو گا ، وہ جھوٹ بھی نہیں بولے گا ، وہ دھوکا اور فریب بھی نہیں کرے گا مگر انگریزوں کو دیکھ کر چونکہ اُسے مونچھیں بڑھانے کی عادت ہو چکی ہوگی اس لئے ہم اس کے متعلق کہیں گے کہ اس کا سب سے بڑا گناہ مونچھیں بڑھانا ہے۔حضرت خلیفۃ اسیح الاوّل اپنے ایک عزیز کا جو وہابی خیالات رکھتا تھا واقعہ بیان فرمایا کرتے تھے کہ ایک دفعہ کوئی بڑا رئیس آپ سے ملنے آیا۔وہ تہ بند تکبر سے لٹکا کر چلا کرتا تھا اور اُس کی