خطبات محمود (جلد 17) — Page 339
خطبات محمود ۳۳۹ سال ۱۹۳۶ء کہتے ہیں یہ درست نہیں تمہارا ظاہر ابھی تک اسلام کے مطابق نہیں ہوا ہاں تم یہ کہہ سکتے ہو کہ امنا کیونکہ تمہارے عقائد درست ہیں۔غرض قرآن کریم کی یہ آیت اس زمانہ میں اپنے مفہوم کو بالکل اور رنگ میں ظاہر کرے گی۔پہلے یہ سوال ہوتا تھا کہ عقیدہ کی اصلاح کیوں مشکل ہے اور اس زمانہ میں یہ سوال ہے کہ عمل کی اصلاح کیوں مشکل ہے اور بغیر حکومت کے اس مشکل کا حل کیا ہے۔اس غرض کیلئے سب سے پہلے ہمیں اس امر پر غور کرنا چاہئے کہ اعمال کی اصلاح میں کونسی چیزیں روک ثابت ہوتی ہیں تا ہمیں علاج معلوم کرنے میں آسانی ہو۔اس سوال کو مد نظر رکھتے ہوئے جب ہم غور کرتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ پہلی چیز جو عمل کی اصلاح کو مشکل بنا دیتی ہے وہ لوگوں کا یہ احساس ہے کہ ایک گناہ بڑا ہوتا ہے اور ایک چھوٹا ہوتا ہے۔عمل کی اصلاح میں یہ سب سے بڑی روک ہے اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ بعض گناہوں پر انسان کو دلیری پیدا ہو جاتی ہے کیونکہ جب وہ یہ اصل قائم کرتے ہیں کہ ایک بڑے گناہ ہوتے ہیں اور ایک چھوٹے گناہ ہوتے ہیں تو کچھ حصہ گناہوں کا وہ اپنے استعمال میں کی لاتے رہتے ہیں اور خیال کر لیتے ہیں کہ یہ گناہ تو چھوٹا ہے اس کے کرنے میں کونسا زیادہ حرج ہے اس طرح بیماری کا پیج ضائع نہیں ہوتا اور بیماری کے بیج کے ضائع نہ ہونے کی وجہ سے خرابی ہمیشہ عو د کرتی رہتی ہے حالانکہ ہمیں رسول کریم ﷺ کی زندگی سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ آپ گناہ اور نیکی کے چھوٹے بڑے ہونے کی تعریف بالکل جدا گانہ کیا کرتے تھے۔احادیث سے ثابت ہے کہ رسول کریم علیہ کے پاس بعض لوگ آئے اور انہوں نے کہا يَا رَسُولَ اللہ سب سے بڑی نیکی کیا ہے؟ آپ نے فرما یا جہاد فی سبیل اللہ۔پھر کوئی اور آیا اور اس نے دریافت کیا یارسول اللہ سب سے بڑی نیکی کیا ہے؟ آپ نے فرمایا ماں باپ کی خدمت کرنا۔اس کے بعد کوئی اور شخص آیا اور اُس نے پوچھا يَا رَسُولَ اللَّهِ ! سب سے بڑی نیکی کیا ہے؟ آپ نے فرمایا۔تہجد۔غرض مختلف سوالات کرنے والوں کو آپ نے ایک ہی سوال کا مختلف جواب دیا، کسی کو جہاد کی طرف توجہ دلائی کسی کو شب بیداری کی طرف متوجہ کیا ، کسی کو ماں باپ کی اطاعت اور فرمانبرداری کی تلقین کی۔اب سب سے بڑی نیکیاں تین تو ہو نہیں سکتیں سب سے بڑی نیکی ایک ہی ہو سکتی ہے۔پس اگر سب سے بڑی نیکی جہاد ہے تو ماں باپ کی اطاعت سب سے بڑی