خطبات محمود (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 34 of 772

خطبات محمود (جلد 17) — Page 34

خطبات محمود ۳۴ سال ۱۹۳۶ء انہیں کبھی کچلا نہیں جاسکتا۔پس اگر ہماری جماعت کے لوگ ساری دنیا میں پھیل جائیں گے تو وہ ای خود بھی ترقیات حاصل کریں گے اور ان کی ترقیات سلسلہ پر بھی اثر انداز ہوں گی۔اور جس می جماعت کی آواز ساری دنیا سے اُٹھ سکتی ہو اُس کی آواز سے لوگ ڈرا کرتے ہیں اور جس جماعت کے ہمدرد ساری دنیا میں موجود ہوں اس پر حملہ کرنے کی جرات آسانی سے نہیں کی جاسکتی۔پس مت سمجھو کہ موجودہ خاموشی کے یہ معنی ہیں کہ تمہارے لئے فضا صاف ہو گئی۔یہ خاموشی نہیں بلکہ آثار ایسے ہیں کہ پھر کئی شورشیں پیدا ہونے والی ہیں اس لئے موجودہ خاموشی کے یہ معنی ہرگزمت سمجھو کہ تمہارا کام ختم ہو گیا۔یہ فتنہ تو تمہیں بیدار کرنے کیلئے پیدا کیا گیا تھا اور اگر تم اب پھر سو گئے تو یا درکھو اگلی سزا پہلے سے بہت زیادہ سخت ہوگی۔خدا تعالیٰ چاہتا ہے کہ وہ تمہیں دنیا میں پھیلائے۔اگر تم دنیا میں نہ پھیلے اور سو گئے تو وہ تمہیں گھسیٹ کر جگائے گا اور ہر دفعہ کا گھسیٹنا پہلے سے زیادہ سخت ہوگا۔پس پھیل جاؤ دنیا میں ، پھیل جاؤ مشرق میں پھیل جاؤ مغرب میں ، پھیل جاؤ شمال میں ، پھیل جاؤ جنوب میں ، پھیل جاؤ یورپ میں پھیل جاؤ امریکہ میں پھیل جاؤ افریقہ میں پھیل جاؤ جزائر میں ، پھیل جاؤ چین میں پھیل جاؤ جاپان میں اور پھیل جاؤ دنیا کے کونے کونے میں یہاں تک کہ دنیا کا کوئی گوشہ ، دنیا کا کوئی ملک اور دنیا کا کوئی علاقہ ایسا نہ ہو جہاں تم نہ ہو۔پس تم پھیل جاؤ جیسے صحابہ پھیلے ، پھیل جاؤ جیسے قرونِ اولیٰ کے مسلمان پھیلے، جیسے انہوں نے دنیا کے جغرافیے بنائے اسی طرح اب دنیا کے نئے جغرافیے تمہارے ذریعہ سے بننا چاہئیں۔تم جہاں جہاں جاؤا اپنی عزت کے ساتھ سلسلہ کی عزت قائم کرو، جہاں پھر واپنی ترقی کے ساتھ سلسلہ کی ترقی کا موجب بنو۔اسی طرح مختلف پیشے ہیں جو اور ملکوں میں سیکھے جا سکتے ہیں انہیں سیکھو اور اپنے ملک کو ترقی دو۔انگریز ہندوستان آئے تو انہوں نے کپڑا بنا یہاں سے سیکھا مگر لنکا شائر کا سارے ہندوستان کو محتاج کر دیا۔احمد آباد، ڈھا کہ اور سندھ کی تجارت کو انہوں نے توڑ دیا اور اپنے ملک کی تجارت کو ترقی دی۔اسی طرح اور کئی فن انہوں نے یہاں سے سیکھے اور اپنے ملک کو ترقی دی۔اگر ہمارے آدمی بھی دنیا میں پھیل جائیں تو وہ مختلف ملکوں سے مختلف پیشے ، ہنر اور دستکاریاں سیکھ کر اپنے ملک کی کو بہت زیادہ فائدہ پہنچا سکتے ہیں۔پھر مؤمن کو خدا تعالیٰ نے نہایت اعلیٰ ذہن دیا ہوا ہوتا ہے اس سے کام لے کر وہ دوسروں سے زیادہ ترقی کر سکتا ہے۔