خطبات محمود (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 299 of 772

خطبات محمود (جلد 17) — Page 299

خطبات محمود ۲۹۹ سال ۱۹۳۶ء ایک انگریز مصنف نے لکھا کہ ہندوستان کو ہم نے فتح نہیں کیا بلکہ ہندوستانیوں نے ہندوستان کو ہمارے لئے فتح کیا۔سارے ہندوستان میں صرف ایک شخص تھا جس نے اس حقیقت کو سمجھا اور دوسروں کو اُکسایا اور ہوشیار کیا مگر کسی نے اس کی بات نہ سنی اور اس کی آواز بالکل رائیگاں گئی یہاں تک کہ ملک ہاتھ سے نکل گیا اور بعد میں افسوس سے ہاتھ ملنے لگے۔انگریز بھی خوب سمجھتے ہیں کہ در حقیقت وہی ایک شخص تھا کہ جس نے ان کی تدابیر کو سمجھا کیونکہ ان کے دلوں کی میں اس کا اتنا بغض ہے کہ وہ اس کے نام پر اپنے کتوں کا نام رکھتے ہیں جس کا اثر یہ ہے کہ گلی کوچوں میں آوارہ پھرنے والے بچے بھی جب کسی کو چڑانا چاہیں تو اُسے لگتا کہنے کی بجائے ٹیپو ٹیپو کہہ کر پکارتے ہیں اور ان کو معلوم نہیں کہ ہندوستان میں صرف وہی ایک بادشاہ تھا جس نے اس خطرہ کو سمجھا جو یہاں اسلامی حکومت کو پیش آنے والا تھا۔وہی تھا جس نے غیرت دکھائی اور غیرت پر جان قربان کر دی۔ٹیپو سلطان نے جب انگریزوں کے بڑھتے ہوئے تسلط کو دیکھا ( ٹیپو اُس کا نام نہیں بلکہ جس طرح پنجابی میں بعض لوگوں کے نام کے ساتھ کوئی لفظ ہوتا ہے جسے اُس کی آن کہا جاتا ہے اسی طرح ٹیپو کی ان تھی تو اُس نے چاروں طرف مسلمانوں کو خطوط لکھے کہ اسلامی عظمت کا نشان مٹ رہا ہے آؤا کٹھے ہو جاؤ تا اسے بچایا جا سکے۔اُس نے ایک طرف ایران کی حکومت کو لکھا تو دوسری طرف افغانستان کی سلطنت کو ، پھر اُس نے ترکوں کو بھی لکھا اور اُس کے پہلو میں نظام کی جو حکومت تھی اُسے بھی متوجہ کیا اور یہاں تک لکھا کہ یہ مت سمجھو کہ میں اپنی عظمت چاہتا ہوں اگر تمہارا یہ خیال ہو تو میں تمہارے ماتحت ہو کر لڑنے کو تیار ہوں لیکن خدا کیلئے اور اسلام کی خاطر آؤ متحد ہو جائیں مگر جب بدقسمتی آتی ہے تو آنے والے خطرات سے انسان کی آنکھیں بند ہو جاتی ہیں یہاں تک کہ اُسے موت آدباتی ہے۔اُس وقت کے نظام نے خیال کیا کہ چونکہ انگریز میرے دوست ہیں اور ان کی مدد سے میں ٹیپو کی حکومت کا خاتمہ کرنے والا ہوں اس لئے ڈر کر اُس نے مجھے یہ تحریک کی ہے اور ایرانیوں، افغانوں اور ترکوں نے خیال کیا کہ ہندوستان میں اسلامی سلطنت کا خاتمہ ہونے سے ہمیں کیا نقصان پہنچ سکتا ہے۔آخر اس بندہ خدا نے اکیلے ہی مقابلہ کیا اور اُس مقابلہ میں اس کا آخری فقرہ میں سمجھتا ہوں ایسا فقرہ ہے جسے تاریخ کبھی مٹا نہیں سکتی۔بعض فقرات اپنے اندر ایسے پاکیزہ جذبات کو لئے ہوئے ہوتے ہیں کہ زمانہ کے اثرات