خطبات محمود (جلد 17) — Page 300
خطبات محمود ۳۰۰ سال ۱۹۳۶ء اور وقت کا بعد انہیں مٹا نہیں سکتا۔جس وقت اس قلعہ کی بیرونی فصیل کو توڑ کر جس میں وہ تھا ایک طرف سے انگریز اندر داخل ہوئے یا یوں کہنا چاہئے کہ بعض غدار افسروں کی مدد سے وہ اندر داخل ہونے میں کامیاب ہو گئے تو اس کا ایک جرنیل دوڑ کر اس کے پاس پہنچا وہ اس وقت دو فصیلوں کے درمیان کھڑا اپنی فوج کولڑا رہا تھا کہ اُسے اُس کے جرنیل نے یہ خبر دی کہ انگریز شہر میں داخل ہو گئے ہیں اور اب بچاؤ کی کوئی صورت نہیں سوائے اس کے کہ آپ ہتھیار رکھ دیں اور اپنے آپ کو ان کے سپرد کر دیں وہ یقیناً آپ کا اعزاز کریں گے مگر جس وقت سلطان ٹیپو نے یہ سنا کہ انگریز شہر میں داخل ہو گئے ہیں اس نے تلوار میان سے نکال لی اور خود لڑائی میں کود پڑا اور اُس نے کہا کہ گیڈر کی سو سال کی زندگی سے شیر کی ایک گھنٹے کی زندگی بہتر ہوتی ہے۔ایک انگریز افسر جو شریف دل رکھتا تھا با وجود اس کے کہ اس کے دشمنوں سے تعلق رکھتا تھا اپنے تذکرہ اور یادداشت میں بیان کرتا ہے کہ ہم نے متواتر اس کے سامنے یہ بات پیش کی کہ ہم فتح پاچکے ہیں اب تم ہمارے ساتھ کہاں لڑ سکتے ہو بہتر ہے کہ ہتھیار ڈال دو مگر وہ نہ مانا یہاں تک کہ میدان میں ڈھیر ہو گیا۔یہا کیلا شخص تھا جس نے ہندوستان کی آئندہ حالت کو سمجھا اور مسلمانوں کو بیدار کرنے کی کوشش کی مگر کوئی اس کی بات کو نہ سمجھا اور اس کے نتائج آج ہم دیکھ رہے ہیں ہزاروں غلامیوں کے طوق آج مسلمانوں کے گلے میں پڑے ہیں۔وہ ایک غلامی کو رو رہے ہیں کہ یہاں انگریزی حکومت ہے حالانکہ ہندؤوں کی حکومت کا طوق بھی ان کی گردن میں ہے ،سکھوں کی حکومت کا طوق بھی ان کی گردن میں ہے، بڑے بڑے تاجروں کی حکومت کا طوق ہے، ساہوکاروں کی حکومت کا طوق ہے، ہر محکمہ پر جولوگ قابض ہیں ان کی حکومت کا طوق ہے، کوئی پیشہ، کوئی فن کوئی ہنر اور کوئی میدان نہیں جس میں انہیں عزت حاصل ہو اور یہ سب نتیجہ اس آواز کے نہ سننے کا ہے جو انہیں وقت پر سنادی گئی تھی۔اُس وقت مسلمان بیوقوفی کی جنت میں بیٹھے رہے جو انہیں دوزخ میں لے گئی۔انہوں نے کبوتر کی طرح آنکھیں بند کر کے سمجھ لیا کہ اب بلی ان پر حملہ آور نہیں ہوگی لیکن وہ تو تشتت ، اختلاف اور تفرقہ کا زمانہ تھا لوگوں نے اس بات کو نہ سمجھا اور اختلاف کی رو میں بہہ گئے۔مگر ہماری جماعت کیلئے ویسا زمانہ نہیں ہم نئے نئے متحد ہوئے ہیں اور فَاصْبَحْتُمْ بِنِعْمَتِةٍ اِخْوَانًا ل کا نظارہ پیش کر رہے ہیں ایسی جماعت کی قلبی اور اندرونی حالت یقیناً اس سے بہتر ہونی