خطبات محمود (جلد 17) — Page 286
خطبات محمود ۲۸۶ سال ۱۹۳۶ باپ کو فرسٹ کلاس آدمی سمجھا اور مہاراجہ رنجیت سنگھ کو تھرڈ کلاس۔پس یہ اپنی اپنی سمجھ کی بات ہوتی ہے۔میں یہ نہیں کہتا کہ کہنے والے نے یہ بات جھوٹ کہی یا فریب کیا ممکن ہے انہوں نے میرے دہلی میں ٹھہرنے کا واقعہ سنا ہو اور اسی کو انہوں نے فرسٹ کلاس ہوٹل میں ٹھہر نا قرار دے لیا ہو مگر جس نیت کے ساتھ یہ بات کہی گئی ہے وہ بے شک منافقت والی ہے۔پھر مشہور کیا جاتا ہے کہ قادیان میں بہت سے منافق رہتے ہیں اور بڑی بڑی میٹنگیر کرتے رہتے ہیں چنانچہ ان میٹنگوں کی خبریں بھی شائع ہوتی رہتی ہیں اور وہ ایسی دلچسپ ہے ہیں کہ ان کو پڑھ کر الف لیلہ کا سا لطف آتا ہے۔تقریریں یہ ہوتی ہیں کہ اپنی جانیں قربان کر دو اور بہادری و جرات کا نمونہ دکھاؤ مگر بتایا یہ جاتا ہے کہ وہ چھپ کر سڑکوں سے دور بیٹھے باتیں کر رہے تھے تا جماعت احمدیہ کا کوئی جاسوس ان کی نقل و حرکت کو معلوم نہ کرے اور ان کی باتوں کا پتہ نہ لگائے۔ادھر تو اتنی بہادری کے دعوے کئے جاتے ہیں کہ کہا جاتا ہے اپنی جانیں قربان کر دو اور ی دوسری طرف اتنا اخفاء کیا جاتا ہے کہ کوشش کی جاتی ہے ہمارا کوئی آدمی ان کی باتیں نہ سن لے۔منافقوں کی یہ بہادری ایسی ہی بہادری ہے جیسے چوہوں کے متعلق قصہ مشہور ہے کہ انہوں نے ایک روز مل کر مشورہ کیا کہ بلی ہمیں روز مار جاتی ہے اس کا کوئی علاج کرنا چاہئے۔چنانچہ انہوں نے بیٹھ کر طے کیا کہ بلی کا مقابلہ کرنا چاہئے اس پر فیصلہ ہوا کہ چوہوں کو اپنے آپ کو قربانی کیلئے پیش کرنا چاہئے۔چنانچہ بڑی بڑی تقریریں ہوئیں اور مطالبہ کیا گیا کہ کون ہے جو اپنے آپ کو قربانی کیلئے پیش کرتا ہے اس پر بڑے بڑے چوہے اُٹھے۔پچاس ساٹھ نے کہا کہ اب کی دفعہ بلی آئی تو ہم اُس کی دُم پکڑ لیں گے، پچاس ساٹھ چوہوں نے کہا کہ ہم اُس کا دایاں کان پکڑی لیں گے ، پچاس ساٹھ نے کہا کہ ہم اُس کا بایاں کان پکڑلیں گے سو دوسو نے کہا کہ ہم اس کی گردن پکڑ لیں گے، سو دوسو نے کہا کہ ہم اس کی ٹانگوں سے چمٹ جائیں گے ، غرض اسی طرح سینکڑوں کی چوہوں نے اپنے آپ کو قربانی کیلئے پیش کر دیا اور کہا کہ ہم ملکی کو پکڑ لیں گے اور اسے جانے نہ دیں کی گے۔جب چو ہے یہ تقریریں کر رہے اور قربانی کیلئے اپنے آپ کو پیش کر رہے تھے تو گوشہ سے میاؤں کی آواز آئی یہ سنتے ہی سب چو ہے بھاگ گئے۔کسی نے کہا بھاگے کہاں جار ہے ہو؟ تم نے تو کہا تھا ہم بلی کا کان پکڑ لیں گے، اُس کی گردن پکڑ لیں گے، اُس کی دُم سے چمٹ جائیں گے