خطبات محمود (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 256 of 772

خطبات محمود (جلد 17) — Page 256

خطبات محمود ۲۵۶ سال ۱۹۳۶ء ڈالی جائے اور میں سمجھتا ہوں نہایت نیک نیتی سے میں نے ایسا کیا اور اب بھی سمجھتا ہوں کہ میں نے جو کچھ کیا وہی صحیح طریق عمل تھا لیکن میں سمجھتا ہوں اب وقت آگیا ہے کہ میں کارکنوں کی سستی اور غفلت دور کرنے کیلئے ان کے کاموں میں دخل دوں۔خصوصاً تحریک جدید کے کارکنوں کو یہ امر مدنظر رکھنا چاہئے کہ میں ان کے متعلق ہر گز کسی قسم کا لحاظ کرنے کیلئے تیار نہیں۔میرے لئے یہ بہتر ہے کہ ایک کو جواب دے دوں بجائے اس کے کہ اس کی سستی اور غفلت کا سو یا دو سو لوگوں پر اثر پڑے۔اسی طرح اگر ایک مبلغ محنت سے کام نہیں لیتا تو وہ ہزاروں جاہلوں کو ہلاک کرنے کا موجب بنتا ہے۔پس بہتر ہے کہ اس کو الگ کر دیا جائے بجائے اس کے کہ ہزاروں جانوں کی ہلاکت برداشت کی جائے۔اسی طرح اگر ایک مدرس طالب علموں کا فکر نہیں کرتا ، ایک افسر اپنے ماتحتوں کی نگرانی نہیں کرتا تو یہ زیادہ بہتر ہے کہ اس کو الگ کر دیا جائے اور وہ ہزاروں جانیں جو اس کی وجہ سے نقصان اٹھا رہی ہیں انہیں بچا لیا جائے۔لیکن اگر میری یہ کوشش محدود ہوتحریک جدید کی کے کارکنوں تک یا محدود ہوسلسلہ کے افسروں اور کارکنوں تک یا قادیان کے لوگوں تک تو بھی اس کا کوئی مفید نتیجہ نہیں نکل سکتا کیونکہ وہ آٹے میں نمک کے برابر بھی حیثیت نہیں رکھتے۔پس زیادہ تر میرے مخاطب جماعت کے وہ لوگ ہیں جو باہر رہتے ہیں اور جو اپنے گھروں پر اپنے بچوں کو رکھتے ہی ہیں۔ایسے بچے بہت بڑی تعداد میں ہیں اور میں اپنی جماعت سے امید کرتا ہوں کہ وہ اپنے بچوں کی کو محنت سے کام کرنے کی عادت ڈالے گی یہاں تک کہ ان کا کوئی منٹ ایسا نہ ہو جو فارغ ہو اور جسے وہ فضول ضائع کر سکیں۔یاد رکھو جس قوم کو ذلت اور رسوائی پہنچ رہی ہو اس قوم کے موٹے جسم اسے کوئی فائدہ نہیں پہنچا سکتے ، جس جسم پر جوتے پڑ رہے ہوں اس جسم کی موٹائی اسے کیا فائدہ دے سکتی ہے۔پس ایک ذلیل اور رسوا شدہ قوم کے گوشت کوئی قابل قدر گوشت نہیں ہوتے۔کتنے کی بوٹیاں بھی کوئی بوٹیاں ہوتی ہیں ہاں دُبلے پتلے دُنبے کا گوشت موٹے گتے کے گوشت سے زیادہ قیمت رکھتا ہے۔پس تم اپنی اولادوں کو اگر کتوں جیسا بناؤ گے تو ان کی بوٹیاں سوائے اس کے کسی کام نہیں آئیں گی کہ چیلیں اور کوے انہیں کھا جائیں لیکن اگر اخلاق سکھا کر تم انہیں دُنبے جیسا کی قیمتی وجود بناؤ گے تو وہ دبلے پتلے ہونے کے باوجود بھی روحانی اور اخلاقی دنیا میں زیادہ قیمت پائیں گے۔