خطبات محمود (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 257 of 772

خطبات محمود (جلد 17) — Page 257

خطبات محمود ۲۵۷ سال ۱۹۳۶ مجھے افسوس ہے ایک عرصہ سے عورتوں کا جمعہ کیلئے آنا رک چکا ہے۔جس وقت انہیں روکا گیا اُس وقت تو مصلحت تھی مگر اب وہ مصلحت ختم ہو چکی ہے۔میرے کئی خطبات ایسے ہوتے ہیں جنہیں اگر عورتیں بھی سنیں تو ان کا زیادہ شاندار نتیجہ نکل سکتا ہے۔میں امید کرتا ہوں آئندہ عورتوں کیلئے بھی خطبہ سننے کا انتظام کر دیا جائے گا۔دراصل بچوں کو سست بنانے میں عورتوں کا بہت حد تک دخل ہوتا ہے اگر اس قسم کے خطبات وہ سنیں تو گوعورتیں تعلیم میں بہت پیچھے ہیں مگر اخلاص سے کام لے کر وہ بہت سے نقائص کا ازالہ کر سکتی ہیں۔قادیان کی ایک عورت تھوڑے ہی دن ہوئے میرے پاس آئی اور کہنے لگی میں کہتی ہوں میں اپنے بچہ کو مبلغ بناؤں گی اور میرا خاوند کہتا ہے کہ اُسے دنیا کا کوئی پیشہ سکھانا ہے آپ اس کا فیصلہ کریں میں نے کہا یہ تمہارا خانگی جھگڑا ہے اس میں میں دخل نہیں دے سکتا لیکن ایک بات میں تمہیں بتا دیتا ہوں اور وہ یہ کہ تمہارا اثر تمہارے بچے کی پر زیادہ ہے تم اپنی باتیں اُس کے کانوں میں ڈالتی رہو اور ہمت نہ ہارو۔تم دیکھوگی کہ اس کے نتیجہ میں ایک دن تمہارے خاوند کی باتیں دھری کی دھری رہ جائیں گی اور تمہارا بچہ مبلغ بن جائے گا کیونکہ بچے پر ماں کا اثر باپ سے زیادہ ہوتا ہے اور تمہارا ارادہ تو نیک ہے اس کا اثر کیوں نہ ہوگا۔تو اگر عورتوں کیلئے خطبہ سننے کا انتظام کر دیا جائے تو اس کا بھی بہت کچھ فائدہ ہوسکتا ہے لیکن کی بہر حال جب تک عورتیں خطبہ نہیں سنتیں مردوں کو چاہئے کہ وہ اپنی ذمہ داری کو سمجھیں اور نہ صرف ی اپنی اولادوں کو بلکہ اپنے بھائیوں کی اولا دوں اور اپنے ہمسائیوں کے بچے کو بھی محنتی اور جفاکش بنانے کی کوشش کریں اور یاد رکھیں کہ خدا تعالیٰ کا وصال کدح کئے بغیر حاصل نہیں ہوسکتا۔جب انسان کدح کرتا ہے تو نفس دُبلا ہونا اور روح موٹی ہونی شروع ہو جاتی ہے لیکن کدح کے بغیر نفس موٹا ہوجاتا اور روح دُبلی ہو جاتی ہے۔میں اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا ہوں کہ وہ ہماری جماعت کو توفیق عطا فرمائے کہ وہ اپنی ذمہ داری کو سمجھے اور ہر قسم کی مستیاں، بجز اور کسل اس سے دور فرما دے اور اپنے فضل سے اسے محنت ، مشقت اور جفا کشی سے کام کرنے کی عادت ڈالے اور اس کدح کی توفیق عطا فرمائے جس سے ہمارا رب ہمیں مل سکتا ہے۔(الفضل ۳۰ ا پریل ۱۹۳۶ء) ل الانشقاق: ۷ تا ۱۶ ستیہ گرہ: حکومت کے خلاف پر امن تحریک الكهف: ۱۰۵ النزعت: ۲ ہزال: دبلا ہونا۔لاغری۔دُبلا پن (لغت فارسی )