خطبات محمود (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 186 of 772

خطبات محمود (جلد 17) — Page 186

خطبات محمود ۱۸۶ سال ۱۹۳۶ء ہے۔ایک دکاندار اپنی دُکانداری کے کام سے جب فارغ ہو جاتا ہے تو باقی وقت اُسے کوئی پوچھنے والا نہیں ہوتا ، اسی طرح تاجر یا صناع اپنی تجارت اور صنعت و حرفت کا کام آزادی سے کرتے وئے دین کی خدمت بھی کر سکتا ہے۔پس میرے بچوں کے متعلق جن افسروں کو ابھی سے مشکلات نظر آ رہی ہیں انہیں بے چینی کی کوئی ضرورت نہیں۔اگر اللہ تعالیٰ نے میری امیدوں اور خواہشوں کو جی پورا کیا تو وہ ان کے دروازوں پر کبھی نوکری مانگنے نہیں آئیں گے۔ہو۔چوتھا امر ڈاک خانہ کا رویہ ہے یہ بھی قریب کے عرصہ سے جاری ہے۔ڈاک خانہ میں پہلے ایک احمدی افسر ہوا کرتا تھا پھر حکومت نے اُسے بدل دیا اور چونکہ تبدیلیوں کے متعلق گورنمنٹ کا قانون ہے اس لئے ہم نے کوئی بُرا نہ مانا اور اُس احمدی سے دریافت کیا کہ جو شخص آپ کی جگہ آرہا ہے وہ کیسا ہے؟ انہوں نے کہا میں اسے جانتا ہوں وہ ایک شریف آدمی ہے اور اس سے کسی قسم کا خطرہ کا خیال نہیں ہو سکتا۔چنانچہ خود میں نے جماعت کے کارکنوں کو ہدایات دیں کہ تم لوگ اس سے پورا پورا تعاون کرنے کی کوشش کرو۔اس سے پہلے ایک اور احمدی کلرک ڈاک خانہ سے تی بدلا جا چکا تھا اور اس طرح سب ایک ڈھب کے آدمی ڈاک خانہ میں مقرر کر دئیے گئے اس تبدیلی کوانی ہم نے خوشی سے قبول کیا اور میں نے سلسلہ کے افسروں کو تعاون کی ہدایت کی اور کہا مجھے بتایا گیا ہے کہ یہ شخص شریف ہے مگر اس عملہ کی تبدیلی کا نتیجہ کیا ہوتا ہے۔اول تو وہی شخص جس نے تعریف کی تھی اسی کے خلاف آرٹیکل لکھے جانے لگے اخبارات میں شائع کرائے جاتے گویا انہوں نے تو یہ سلوک کیا کہ آنے والے کی تعریف کی اور کہانی کہ اس سے اچھا سلوک رکھا جائے وہ شریف آدمی ہے لیکن انہوں نے اس سے یہ سلوک کیا کہ اس کی کے خلاف اخباروں میں مضامین لکھے۔پھر میرے ساتھ جس نے یہ تاکید کی تھی کہ اچھا سلوک کیا تھی جائے یہ معاملہ کیا گیا کہ میں نے ایک دوائی منگوائی وہ دوائی ابھی مجھے نہیں پہنچی تھی اور نہ اس کے متعلق خط ملا تھا کہ ایک رپورٹر نے احرار کے دفتر سے مجھے اطلاع دی کہ آج فلاں شخص یہ بیان کر رہا تھا کہ میں نے احرار کے اخبار میں یہ مضمون بھیجا ہے کہ یہاں ایسی ایسی دوائیوں کا پارسل آیا ہے۔میں حیران ہوا کہ یہ اطلاع انہیں کیونکر مل گئی کیونکہ ابھی تک پارسل کی اطلاع مجھے بھی نہ ملی تھی۔زیادہ حیرت اس بات پر ہوئی کہ اس میں قیمتوں کا بھی ذکر تھا اور ایک دوا کا نام بھی صحیح تھا۔