خطبات محمود (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 183 of 772

خطبات محمود (جلد 17) — Page 183

خطبات محمود ۱۸۳ سال ۱۹۳۶ء نے اُسے قرآن مجید حفظ کرایا، پھر مولوی فاضل تک تعلیم دلائی ، پھر انگریزی علوم پڑھائے۔ایسا کی طالب علم کہاں اس عمر کے اندر تعلیم ختم کر سکتا ہے جو نوکری کیلئے ضروری ہے۔پس وہ ولایت کسی نوکری کیلئے نہیں گیا بلکہ علم کی زیادتی کیلئے گیا ہے۔باقی رہے میرے بھتیجے سو میرے تعلق کا اگر میرے بھتیجوں پر یہ اثر پڑے کہ انہیں سرکاری ملازمت میں نہ لیا جائے تو یہ اسی صورت میں ہوسکتا ہے ہے جبکہ گورنمنٹ یہ نوٹس شائع کر دے کہ آئندہ جماعت احمدیہ کے افراد کو سرکاری ملازمتوں میں نہ کی لیا جائے۔مگر حکومت کا یہ اعلان نہ کرنا اور اس وجہ سے کہ اسے مجھ سے کسی قسم کی شکایت ہے میرے بھتیجوں کے مستقبل پر اثر ڈالنا یہ امران افسران کے کسی زیادہ اچھے اخلاق پر دلالت نہیں کرتا۔حالانکہ حکومتیں بھی اخلاق کی ویسی ہی پابند ہوتی ہیں جیسی رعایا۔اگر خدا تعالیٰ نے انہیں کا میاب کر دیا تو پھر پنجاب کیا اور یو۔پی کیا اور بنگال کیا اور بمبئی کیا جو تعلیم کیلئے انگلستان جا سکتے ہیں وہ ای ملازمت کیلئے پنجاب سے باہر بھی رہ سکتے ہیں لیکن اگر وہ پنجاب میں لگ جائیں تو حکومت کو مطمئن رہنا چاہئے کہ ان کی وجہ سے برٹش امپائر کو کوئی نقصان نہیں پہنچے گا۔آخر آئی۔سی۔ایس حکومت ہند ی کے کامرس ممبر سے زیادہ با حیثیت نہیں ہوتے۔پھر جب ظفر اللہ خان کی موجودگی میں برطانوی حکومت کو کوئی نقصان نہیں پہنچا تو ان دولڑکوں کی موجودگی میں اسے کیا نقصان پہنچ جائے گا۔دراصل اس قسم کی باتیں صرف دلوں میں میل پیدا کر دیتی ہیں اس کے علاوہ اور کوئی نتیجہ پیدا نہیں کی کرتیں۔پھر اس قسم کی باتوں کا یہ واضح مطلب ہے کہ گورنمنٹ کہتی ہے کہ غیر احمدیوں کو لے لو، سکھوں کو لے لو، عیسائیوں کو لے لو، کانگرسی خاندانوں کے بچوں کو لے لو، انتہاء پسند خاندانوں کے لڑکوں کو لے لو مگر احمدیوں کو نہ لو۔گویا وہ احمدیوں کو حکومت کے مخالف گروہوں سے بھی بدتر سمجھتی ہی ہے لیکن حکومت تسلی رکھے میرے بیٹے اگر میرے نقشِ قدم پر چلنے والے ہوئے تو ان کا فرض ہوگا کہ وہ کبھی انگریزوں کی نوکری نہ کریں۔میں نے اپنے جتنے لڑکوں کو تعلیم دلائی ہے اُن میں سے کسی کے متعلق یہ مد نظر نہیں رکھا کہ اسے نوکری کرائی جائے۔صرف ایک لڑکا ایسا ہے جسے میں نے ڈاکٹری پڑھوائی ہے اور ممکن ہے ایک دو اور کو بھی کوئی ایسا ہی علم پڑھاؤں کیونکہ میں سمجھتا ہوں کہ یہ علوم بھی سلسلہ کی خدمات کیلئے ضروری ہیں۔ایسے بچوں کو اگر تجربہ وسیع کرنے کیلئے تھوڑی مدت کیلئے نوکری کرنی پڑی تو وہ بھی کی