خطبات محمود (جلد 17) — Page 184
خطبات محمود ۱۸۴ سال ۱۹۳۶ء جائز ہو سکتی ہے کیونکہ ڈاکٹری کیلئے ضروری ہے کہ مریض ہوں اور ان کا علاج کر کے تجربہ کو وسیع کیا تھی جائے اور پرائیویٹ پریکٹس میں ابتدا میں کافی مریض مہیا نہیں ہو سکتے اس لئے اگر اس مقصد کیلئے جی ایک دو سال انگریزوں کی ملازمت کر لی جائے تا تجربہ ہو جائے تو یہ ملازمت نہیں بلکہ تعلیم کا زمانہ ہی کہلائے گا۔ورنہ نوکری تو ایسی چیز ہے کہ میں اس کا نام سُن کر بھی گھبراتا ہوں اور میرے خدا تعالیٰ سے جو تعلقات ہیں اور جس نگاہ سے میں نے اپنے تعلقات کو ہمیشہ دیکھا ہے اس کی روانی سے تو میری حیثیت ایک غلام کی ہے اور اسلام کا یہ مسئلہ ہے کہ غلام کے بچے بھی غلام ہی ہوتے ہی ہیں۔پس جس نقطۂ نگاہ سے میں نے اپنے رب کو دیکھا ہے اگر اسی نقطہ نگاہ سے میرے بچے بھی اپنے رب کو دیکھیں گے تو وہ اور جا کہاں سکتے ہیں۔غلام تو اُسی دروازہ پر رہتا ہے جہاں اس کا آتا ہو۔یہ خبر تو مجھے پرسوں ملی ہے مگر سات آٹھ دن ہوئے میرے بعض بچوں نے جب پرائمری پاس کی تو وہ آپس میں آئندہ پڑھائی کے متعلق باتیں کر رہے تھے۔میں نے اس خیال سے کہ ان کی کے دل کے ارادوں کا جائزہ لوں ایک چھوٹے بچے کو بلایا اور اس سے پوچھا بولو انگریز کی نوکری اچھی ہے یا اللہ تعالیٰ کی؟ وہ کہنے لگا خدا کی۔میں نے کہا اگر خدا تعالی کی نوکری اچھی ہے تو وہ پھر کی مدرسہ احمدیہ میں داخل ہونے سے مل سکتی ہے۔تو باوجود انگریزی حکومت کا ادب و احترام دل میں رکھنے کے باوجود اس سے تعاون کرنے کے اور باوجود اس عقیدہ میں دشمنوں کی طرف سے شدید مخالفتیں برداشت کرنے کے انگریزوں کی ملازمت اپنی اولاد کیلئے میں پسند نہیں کرتا بلکہ میں یہی ہے پسند کرتا ہوں کہ جس دروازہ کی غلامی مجھے نصیب ہوئی ہے خدا تعالیٰ اسی دروازہ کی غلامی میری کی اولا د کو نصیب کرے کیونکہ دوسرا آقا تبدیل کرنا ہماری غیرتیں برداشت نہیں کر سکتیں۔ممکن ہے میرے بچوں میں سے سب ایک رنگ میں سلسلہ کی خدمات نہ کر سکیں کیونکہ اللہ تعالیٰ کے فضل۔میری اولا دزیادہ ہے۔اس صورت میں انگریز کی نوکری سے میں یہ زیادہ پسند کروں گا کہ وہ تجارت کرلیں، یا زراعت کرلیں ، یا کوئی اور پیشہ اختیار کرلیں ان کاموں میں انسان کو بہت حد تک آزادی رہتی ہے اور وہ خدمت سلسلہ کیلئے کافی وقت نکال سکتا ہے۔نوکریوں میں لوگ آزاد نہیں ہوتے۔ان پر سو پابندیاں عائد ہوتی ہیں پھر اقلیتوں کیلئے تو اور زیادہ مشکلات ہوتی ہیں۔