خطبات محمود (جلد 17) — Page 151
خطبات محمود ۱۵۱ سال ۱۹۳۶ء وقت بھی منافقوں نے ہنسی اُڑائی اور کہا کہ جان بچانے کیلئے خندق کھود رہے ہیں اور مدینہ سے باہر نکل نہیں سکتے مگر خواب دیکھ رہے ہیں قیصر و کسری کے محلات کے۔گویا وہ زمانہ مسلمانوں کیلئے اس قدر مشکلات کا زمانہ تھا کہ منافق جو بُز دل ہوتے ہیں وہ بھی دلیری سے ان پر ہنسی کرنے لگ گئے تھے۔قرآن کریم نے بھی غزوہ احزاب یا خندق کا نظارہ بیان کر کے بتایا ہے کہ اُس وقت کی مسلمانوں کی یہ حالت تھی کہ گویا وہ زلزلہ میں مبتلاء ہیں اور زمین اپنی فراخی کے باوجود ان پر تنگ صلى الله ہو گئی تھی۔۔بظا ہر اس زبر دست لشکر کے مقابل پر صحابہ کا زور نہیں چلتا تھا مگر پندرہ روز کے بعد آدھی رات کے وقت رسول کریم ﷺ نے آواز دی اور فرمایا کوئی ہے؟ مگر کسی نے جواب نہ دیا۔ایک صحابی نے عرض کیا يَا رَسُولَ اللہ ! میں حاضر ہوں۔آپ نے فرمایا تم نہیں کوئی اور۔پھر فرمایا کوئی جاگتا ہے؟ مگر کوئی نہ بولا۔اُسی صحابی نے پھر کہا يَا رَسُولَ اللهِ ! میں حاضر ہوں مگر آپ نے پھر فرمایا تم نہیں کوئی اور۔اور پھر تیسری دفعہ آواز دی مگر پھر بھی کوئی نہ بولا اور پھر اُسی نے آواز دی اور آپ نے فرمایا کہ جاؤ دیکھو مجھے اللہ تعالیٰ نے اطلاع دی ہے کہ کفار کا لشکر تتر بتر ہو گیا ہے۔وہ صحابی باہر نکلے تو دیکھا کہ سب میدان خالی پڑا ہے، نہ غنیم کا کوئی خیمہ تھا اور نہ سامان۔ایک اور صحابی بیان کرتے ہیں کہ میں اُس وقت جاگتا تھا مگر سردی شدید تھی اور کپڑے نا کافی تھے اور سردی کی وجہ سے باوجود جاگنے کے منہ سے بات نہ نکلتی تھی۔- کفار کے بھاگنے کا واقعہ یہ ہے کہ ایک عرب سردار کی آگ بجھ گئی ، اہل عرب اس بات کو ی منحوس خیال کرتے تھے ، اس نحوست کے دُور کرنے کیلئے اس قبیلہ نے اپنے رواج کے مطابق یہ طریق تجویز کیا کہ رات کے وقت اپنے خیمے وہاں سے اُٹھا کر چند میل کے فاصلے پر لے جا کر لگائیں اور اگلے روز پھر وہیں آلگا ئیں اور جب رات کو چپکے سے انہوں نے خیمے اکھاڑنے شروع کی کئے تو ساتھ والوں نے خیال کیا کہ شکست ہوگئی ہے اور یہ لوگ بھاگ رہے ہیں انہوں نے بھی فوراً اپنے خیمے اُٹھانے شروع کر دیے۔ان کو دیکھ کر ان کے پاس والوں نے بھی ایسا ہی کیا حتی کہ ابوسفیان کو جو اس لشکر کا سپہ سالار تھا خبر ہوئی تو اُس نے خیال کیا کہ مسلمانوں نے شب خون مارا ہے اس لئے یہاں سے جلدی بھاگنا چاہئے۔چنانچہ وہ اس قد رگھبرایا کہ اونٹ کو کھولے بغیر اُس پر