خطبات محمود (جلد 17) — Page 138
خطبات محمود سال ۱۹۳۶ء یہ اس پر عرصہ سے قبضہ جمائے بیٹھا ہو تو اُس کے دل میں اور بھی ندامت پیدا ہونی چاہئے کہ میں تی نے اتنا عرصہ ناجائز طور پر دوسرے کے حق کو غصب کیا اور اس سے فائدہ اُٹھا تا رہا۔یہ تعلیم ہے جو اسلامی تعلیم ہے اور یہی وہ روح ہے جس کے قیام کیلئے اسلامی حکومتوں کی ضرورت ہوا کرتی ہے۔میں نے بتایا ہے کہ ہماری حکومت اسلامی حکومت نہیں مگر خدا تعالیٰ نے ہماری حکومت کو اتنا دل دیا ہے کہ اس نے بعض امور میں مختلف مذاہب والوں کو کہہ دیا ہے کہ جاؤ ان میں حسب منشاء فیصلہ کرلو۔یہ بھی اس کا ایک احسان ہے اور ہم اس کی قدر کرتے ہیں گو اسی کے بعض مقرر کردہ حکام اس کی اس اجازت کی قدر نہیں کرتے۔ہم کہتے ہیں کہ حکومت نے جن امور میں دخل دینے کی ضرورت نہیں سمجھی ان سے فائدہ اُٹھانا چاہئے اور حکومت کا منشاء ہے کہ لوگ اس سے فائدہ اٹھا ئیں۔مگر وہ حکام لوگوں پر یہ ظاہر کرتے ہیں کہ گو حکومت نے لوگوں کو اجازت دی ہوئی ہے کہ بعض امور میں وہ باہم فیصلہ کر لیا کریں مگر اس کا منشاء نہیں کہ لوگ اس طرح فیصلہ کر یں۔گویا وہ اسی حکومت پر جھوٹ کا الزام عائد کرتے اور اُسے منافق ثابت کرتے ہیں مگر ہم حکومت کو جھوٹا نہیں سمجھتے اور نہ اس کی اس اجازت میں کسی نفاق کا دخل سمجھتے ہیں بلکہ کہتے ہیں کہ جب اس کی طرف سے ایک اجازت ہے تو واقعہ میں حکومت کا منشاء یہ ہے کہ لوگ بجائے سرکاری عدالتوں میں جانے ہی کے بعض امور میں آپس میں سمجھوتہ کر لیا کریں مگر وہ حکام یہ ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ حکومت یہ بات جھوٹ اور فریب سے کہ رہی ہے۔اصل میں اس کے دل میں یہ ارادہ نہیں۔پس وہ حکومت کو جھوٹا اور منافق ثابت کرتے ہیں مگر ہم اس کو سچا سمجھ کر اس کی اس اجازت کی قدر کرتے اور اس سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کرتے ہیں۔غرض جن امور میں حکومت نے اختیار دیا ہوا ہے ان امور میں ہمارا فرض ہے کہ ہم پورے طور پر اسلامی حکومت کا نقشہ قائم کر دیں۔اس میں جتنی غفلت لاعلمی کی وجہ سے ہو وہ معاف کی جاسکتی ہے، جتنی غفلت انتظام کی وقت کی وجہ سے ہو مثلاً سال دو سال کسی امر کا انتظام مکمل کرنے میں لگ جائیں تو اتنی تعویق معاف کی جاسکتی ہے مگر جن امور میں ہم اسلامی تعلیم کا احیاء کر سکتے ہیں اور پھر نہیں کرتے ان امور میں غفلت کسی صورت میں معاف نہیں کی جاسکتی اور یہ نہیں کہا جاسکتا کہ ہم پر انگریزی حکومت ہے۔اللہ تعالیٰ کہے گا کیا انگریزوں نے نہیں کہہ دیا تھا کہ ان