خطبات محمود (جلد 17) — Page 137
خطبات محمود ۱۳۷ سال ۱۹۳۶ء نہیں کرتا۔مؤمن کے اندر تو اسلام وہ دلیری پیدا کر دیتا ہے کہ وہ نہ بادشاہ کی دھمکی سے ڈرتا ہے نہ رعایا کی دھمکی سے مگر اس کے ساتھ ہی عدل اور انصاف کی آواز کے سامنے ہر مومن جھک جاتا ہے خواہ وہ عدل و انصاف کی آواز ایک ذلیل ترین آدمی کے منہ سے نکلے۔اگر ایک بادشاہ کسی مؤمن سے کہتا ہے کہ ظلم کر تو اُس مؤمن کی چھاتی تن جانی چاہئے اور اُسے کہ دینا چاہئے کہ میں ظلم کرنے کیلئے ہرگز تیار نہیں لیکن اگر زمین پر گرا ہوا ایک اپاہج اور ٹو لالنگڑا انسان جس کا منہ مکھیوں کی کثرت کی وجہ سے نظر بھی نہیں آتا تمہیں کہے کہ انصاف کرو تو تمہارا سر اُس کے سامنے جھک جانا چاہئے اور تمہیں کہنا چاہئے کہ سَمْعًا وَّ طَاعَةً۔یہ روح ہے جو اسلام پیدا کرنا چاہتا ہے اور یہ بالکل مغربی روح کے خلاف ہے۔مغرب جتھہ بندی کو طاقت دیتا ہے مگر اسلام انصاف کو طاقت دیتا ہے اور ہمارا فرض ہے کہ ہمارے سارے کام اس کے مطابق ہوں اور ہر امر میں انصاف اور محبت کی روح ہم اپنے مد نظر رکھیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سنایا کرتے تھے کہ ایک صحابی اپنا گھوڑا دوسرے صحابی کے پاس فروخت کرنے کیلئے لایا اور اُس کی قیمت مثلاً دوسو روپیہ بتائی۔دوسرے صحابی نے کہا کہ میں اس قیمت پر گھوڑا نہیں لے سکتا کیونکہ اس کی قیمت دگنی ہے۔معلوم ہوتا ہے کہ آپ کو گھوڑوں کی قیمت سے واقفیت نہیں لیکن مالک نے زیادہ قیمت لینے سے انکار کر دیا اور کہا کہ جب میرا گھوڑا زیادہ قیمت کا نہیں تو میں کیوں زیادہ قیمت لوں اور اس پر ان کی تکرار ہوتی رہی یہاں تک کہ ثالث کے ذریعہ سے انہوں نے فیصلہ کرایا۔یہ اسلامی روح تھی جو ان دو صحابیوں نے کی دکھلائی۔اسلام کا حکم یہی ہے کہ ہر شخص بجائے اپنا حق لینے اور اس پر اصرار کرنے کے دوسرے کے حق کو دینے اور اُسے قائم کرنے کی کوشش کرے جس وقت یہ روح قائم ہو جائے اُس وقت ساری سٹرائکیں آپ ہی آپ بند ہو جاتی ہیں مگر کم سے کم نیکی یہ ہے کہ جب کسی کی طرف سے اپنے حق کا سوال پیدا ہو تو وہ حق اُسے دے دیا جائے۔یہ غیر اسلامی روح ہے کہ چونکہ دوسرے کے حق پر ہم ایک لمبے عرصہ سے قائم ہیں اور اس حق کو اپنا حق سمجھنے کی ایک عادت ہمیں ہو گئی ہے اس لئے ہم دوسرے کو وہ حق نہیں دے سکتے۔اسلامی روح یہ ہے کہ اگر کوئی دوسرے کا حق ہو اور