خطبات محمود (جلد 17) — Page 136
خطبات محمود سال ۱۹۳۶ء دُہرا دیتا ہوں کہ ایسے لوگ جو اپنے حقوق کے حصول کیلئے غیر اسلامی طریق اختیار کرتے ہیں وہ کسی نرمی اور رحم کے مستحق نہیں سمجھے جاسکتے کیونکہ وہ اسلامی حکومت کے قیام کو صدمہ پہنچاتے اور کی غیر اسلامی طریق دنیا میں قائم کرنا چاہتے ہیں۔پس اگر آئندہ میرے کانوں میں سٹرائک کی آوازی آئے گی تو جماعت اُن سٹرائک کرنے والوں کو کبھی معاف نہیں کرے گی اور وہ کبھی اُن سے لین دین نہیں کرے گی۔اسی طرح اگر سرمایہ داروں میں سے کوئی شخص کسی مزدور کا حق نہیں دے گا اور اسے دبائے رکھے گا تو اُسے بھی سخت سزا دی جائے گی۔انصاف قائم کرنا ہمارا فرض ہے اور وہ خدا جو نہ مشرقی ہے نہ مغربی اُس کا قائم مقام ہونے کے لحاظ سے ہمارا فرض ہے کہ ہم کسی کو کسی کا حق چھیننے اور دبانے نہ دیں خواہ وہ چھوٹا ہو یا بڑا، امیر ہو یا غریب۔جب اسلام نے اپنے حقوق کے حصول کیلئے ایک طریق مقرر کیا ہوا ہے تو کیا وجہ ہے کہ اسے اختیار نہیں کیا جاتا۔مثلاً اگر دکانداروں کی کو شکایت پیدا ہوئی تھی تو اس کے ازالہ کے دو طریق تھے وہ محکمہ قضاء میں نالش کر سکتے تھے کہ ہمارے ریٹ بڑھائے جائیں اسلامی محکمہ قضاء کو سب اختیارات حاصل ہیں۔جس وقت محکمہ قضاء میں نالش کر دی جائے اور کہا جائے کہ ہمیں مجبور کیا جاتا ہے کہ ہم یہ ریٹ رکھیں حالانکہ یہ ریٹ کافی نہیں تو قاضی فوراً دوسرے فریق کو اگر وہ انجمن ہے تو انجمن کو اگر امور عامہ ہے تو امور عامہ کو ی بُلائے گا اور اُس سے جواب طلب کرے گا اور اگر وہ ثابت کر دیں گے کہ ان کے ریٹ کم ہیں تو ان کی کے پہلے ریٹ منسوخ کئے جائیں گے اور جو جائز ریٹ ہوں گے وہ مقرر کئے جائیں گے اور اگر وہ اس طریق کو پسند نہیں کرتے تھے تو چونکہ یہ انتظامی معاملہ ہے اس لئے براہ راست خلیفہ وقت کے سامنے بھی درخواست پیش کی جاسکتی تھی۔اسی طرح اگر پبلک کو شکایت ہو کہ دکانداروں کے ریٹ زیادہ ہیں تو وہ انجمن کے پاس شکایت کر سکتے ہیں اور اگر انجمن دُکانداروں کیلئے ایک ریٹ مقرر کر دیتی ہے مگر کوئی دُکاندار اس کی تعمیل نہیں کرتا تو بہ اجازت اس سے قطع تعلق کیا جاسکتا ہے۔لیکن اگر انجمن ایک فیصلہ کرتی ہے اور دُکاندار اُس پر راضی نہیں تو وہ اس کے خلاف اپیل کر سکتا ہے جو خلیفہ وقت کے پاس بھی ہو سکتی ہے اور محکمہ قضاء میں بھی۔یہ تمام رستے کھلے ہیں اور ان کے ذریعہ ہر وہ شخص جو سمجھتا ہے کہ اُس کا حق مارا جارہا ہے اپنا حق لے سکتا ہے۔لیکن اگر کوئی شخص ان طریق کے خلاف چلتا اور دھمکی سے اپنی بات منوانا چاہتا ہے تو اسلام دھمکی کی روح کو کسی صورت میں پسند