خطبات محمود (جلد 17) — Page 123
خطبات محمود ① سال ۱۹۳۶ء جائز اور پر امن ذرائع سے دنیا میں صحیح اسلامی حکومت قائم کرنا ہمارا فرض ہے۔فرموده ۱۳/ مارچ ۱۹۳۶ء) تشهد ، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:۔میں نے بارہا جماعت کو اس امر کی طرف توجہ دلائی ہے کہ ہر عمارت اپنے اندر کئی حصے رکھتی ہے اور جب تک وہ سب حصے پورے نہ ہوں اُس وقت تک وہ فوائد جو اُس عمارت سے مدنظر ہوں کبھی حاصل نہیں ہو سکتے۔ایک قلعہ جس غرض کیلئے بنایا گیا ہوا گر وہ اس غرض کو پورا نہیں کرتا تو ی وہ قلعہ نہیں کہلا سکتا۔مثلاً چاروں طرف دیوار بنادی جائے لیکن اتنی موٹی دیوار نہ بنائی جائے جو تو پوں اور گولوں کا مقابلہ کر سکے یا موٹی دیوار تو بنا دی جائے لیکن ایسے مصالحہ سے نہ بنائی جائے جو دشمن کے گولوں کا مقابل کر سکے یاد یوار میں تو ایسے مصالحہ سے بنادی جائیں جو گولوں کا مقابلہ کر سکیں مگر چاروں طرف نہ بنائی جائیں بلکہ اس کا کوئی حصہ کھلا چھوڑ دیا جائے ایسی صورت میں وہ دیوار میں قلعہ کی دیوار میں نہیں کہلا سکتیں اور نہ قلعہ سے پورا فائدہ اُٹھایا جا سکتا ہے۔یا مثلاً نہریں ہیں اگر کوئی شخص نہریں کسی ملک میں جاری کر دے لیکن ان کی سطح دوسری زمین سے اونچی نہ رکھے بلکہ زمینیں اونچی ہوں اور نہریں نیچی تو وہ نہریں کوئی فائدہ نہیں دے سکتیں کیونکہ اُن کا پانی بغیر کسی فائدہ کے بہتا چلا جائے گا۔یا مثلاً کوئی شخص مکان بنائے لیکن اُس پر چھت نہ ڈالے تو ایسی صورت میں مکان سے جو حفاظت مطلوب ہے وہ حاصل نہ ہو سکے گی۔یا مکان پر چھت تو ڈال دے لیکن