خطبات محمود (جلد 17) — Page 122
خطبات محمود ۱۲۲ سال ۱۹۳۶ء ہوتا چلا جائے گا۔بے شک یہ بہت بڑا کام ہے مگر ہمارے خدا میں سب طاقتیں ہیں۔جھوٹ کے کی سمندر میں ڈوبے ہوئے انسانوں کیلئے یہ ناممکن ہے کہ سچائی کی کشتی میں بیٹھ سکیں۔مگر وہ خدا جس کی نے نوح کے زمانہ میں ایک کشتی تیار کرائی اور جس نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو نوح کا نام دیا اُس کیلئے یہ ناممکن نہیں کہ ایک ایسی کشتی تمہیں دے دے جس سے تم نہ صرف خود اس سمندر سے نکل جاؤ بلکہ اوروں کو بھی نکال لو۔پس میں اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا ہوں کہ وہ ہم پر اپنا فضل نازل کرے اور ہمیں سچائی پر قائم ہونے کی توفیق عطا فرمائے اور صداقت کی تلوار عطا کرے جس کے مقابلہ میں شیطانی تلوار اور کینہ و کپٹ اور بغض و عناد کی تلوار میں نہ ٹھہر سکیں تا اُس کی حکومت پھر قائم ہوا اور محمد لہ کا نور پھر دنیا میں پھیلے۔لے (الفضل ۱۷ مارچ ۱۹۳۶ ء ) غلہ : مٹی کی گولی یا کنکری جسے غلیل میں رکھ کر چلاتے ہیں۔ڈینیوب یورپ کے دریاؤں میں سے دوسرا سب سے بڑا دریا۔بلیک فارسٹ کی مشرقی دہلانوں سے نکلتا ہے اور بحیرہ اسود میں جا گرتا ہے۔يونس : ۱۷ سیرت ابن ہشام جلدا صفحه ۸۶ مطبوعه مصر ۱۲۹۵ھ تاريخ الخلفاء للسيوطى صفحه ۵۱ مطبوعہ لا ہور ۱۳۰۹ھ 1 سیرت ابن ہشام جلدا صفحه ۱۱۹ ،۱۲۰ مطبوعه مصر ۱۲۹۵ھ