خطبات محمود (جلد 17) — Page 667
خطبات محمود سال ۱۹۳۶ اس تحریک سے میری غرض یہ ہے کہ دو آدمیوں میں جو فرق ہے یعنی ایک اپنے آپ کو آدمی سمجھتا ہے اور دوسرا فرعون اِسے مٹا دیا جائے اور دونوں ہی آدمی بن جائیں۔حضرت خلیفہ اول کا ایک لطیفہ یاد ہے آپ کے پاس بعض شاگرد بھی بیٹھے رہتے تھے اور شاگردوں میں سے بھی بعض اپنے آپ کو بڑا سمجھ لیا کرتے ہیں۔بعض اوقات آپ کسی مریض کو دوا لگانے کیلئے فرماتے کہ کوئی تنکا وغیرہ لاؤ یا کوئی اور کام بتاتے تو بعض دفعہ اگر وہی شاگر دموجود ہوتے جو اپنے آپ کو بڑا سمجھتے تھے تو وہ بیٹھے رہتے۔اور آپ جب دریافت فرماتے کہ فلاں چیز ابھی آئی یا نہیں تو وہ کہہ دیتے کہ حضور! کوئی آدمی آتا ہے تو منگوالیتے ہیں۔اس پر آپ فرماتے کہ تھوڑی دیر کیلئے آپ ہی آدمی بن جائیں۔تو زندگی کے سادہ نہ ہونے کی وجہ سے کچھ آدمی آدمی نہیں رہے بلکہ بعض آدمیت سے نکل گئے ہیں اور ہم چاہتے ہیں کہ سارے ہی آدمی بن جائیں اس لئے یہ تحریک ہمیشہ جاری رہے گی ورنہ مذہب اپنی اصلی شکل پر قائم نہیں رہ سکتا۔اس لئے اس تحریک کے مالی حصہ کے سوا باقی سب تحریکیں دائی ہیں اور حقیقت میں وہ زیادہ مقدم ہیں اور چونکہ اس سال کی تحریک کے اب صرف دو ماہ باقی رہ گئے ہیں اس کی لئے جن دوستوں نے غفلت کی ہے وہ اب جلد کوتاہیوں کو پورا کریں تا وقت پورا ہونے کے بعد ان کے دل ملامت نہ کریں۔میں تو کوئی ملامت نہیں کروں گا کیونکہ طوعی تحریک ہے مگر ان کے دل ضرور ملامت کریں گے۔پس پیشتر اس کے کہ دل ملامت کریں انہیں چاہئے کہ کوشش کریں تا سال کے اختتام پر وہ خوش ہوں اور کہ سکیں کہ پہلا بوجھ تو ہم اُٹھا چکے اب نئے سال کا اُٹھانے کو تیار ہیں۔( الفضل ۱۶ / اکتوبر ۱۹۳۶ء) ل البقرة : ١٢ ۳۲ بخاری کتاب المغازی باب حدیث کعب بن مالک کے تذکرہ، صفحه ۵۔ایڈیشن چہارم