خطبات محمود (جلد 17) — Page 634
خطبات محمود ۶۳۴ سال ۱۹۳۶ پر ناراضگی کا اظہار کیا تو رسول کریم ﷺ نے انہیں منع کیا اور فرمایا اس میں کوئی حرج نہیں۔مگر آج کسی گھر میں کوئی شریف عورت گا تو جائے تم دیکھ لو گے کہ باوجود حدیثیں پڑھنے کے باوجود تاریخی واقعات سے آگاہی رکھنے کے گھر گھر یہ چرچا ہوتا ہے کہ نہیں کہ فلاں عورت تو بڑی بُری ہے وہ تو خوش الحانی سے شعر پڑھتی ہے۔گویا لوگ اب صرف اتنا سمجھتے ہیں کہ میرا نہیں اور ڈومنیاں ہی گا سکتی ہیں شرفاء کا حق نہیں کہ وہ گائیں۔مگر ہندوستان سے باہر نکل کر انگلستان چلے جائیں تو ہمیں نظر آتا ہے کہ معزز سے معزز گھرانوں کی عورتیں گاتی ہیں ، جرمنی چلے جائیں تو وہاں بھی یہی نظر آتا ہے ، فرانس چلے جائیں تو وہاں بھی یہی دکھائی دیتا ہے اور پھر شریعت پر غور کرنے سے بھی یہی معلوم ہوتا ہے کہ اسلام نے اس قسم کے گانے سے منع نہیں کیا پھر کیا وجہ ہے کہ یہاں تو اس قسم کا گا نا عیب سمجھا جاتا ہے مگر انگلستان وغیرہ میں کوئی عیب نہیں سمجھا جاتا۔وہاں لوگ اس قسم کے گانے گانے کی تائید میں دلائل بھی دیں گے، اس کی خوبیاں بھی بیان کریں گے ، اس کی ضرورت بھی کی واضح کریں گے۔یہ فرق صرف اس لئے ہے کہ اب ہندوستان کے مسلمانوں میں اس کے خلاف عادت پڑ گئی ہے اور یورپ کا طریق عمل اس عادت کے خلاف ہے۔پس وقار کے معنے در حقیقت ہمارے ملک کے استعمال کے لحاظ سے یہ ہیں کہ جو میں کہتا ہوں اُس کے خلاف نہ کیا جائے گویا ہمارے ملک میں وقار کے لفظ کے ماتحت ایک انسان دوسروں پر حکومت کرنا چاہتا ہے مگر اس حکومت کو منوانے کیلئے وہ یہ نہیں کہتا کہ چونکہ میں یوں کہتا ہوں ایسا مت کرو کیونکہ وہ ڈرتا ہے کہ اگر میں نے کہا ایسا مت کرو تو دوسرا آگے سے جواب دے گا کہ تو کون ہوتا ہے مجھے حکم دینے والا۔اس لئے وہ اپنی بات کو مؤثر کرنے اور لوگوں پر رعب ڈالنے کیلئے یوں کہہ دیتا ہے کہ یہ بات وقار کے خلاف ہے اس لئے ایسا نہ کرو اور دوسرا آدمی جو اس سے کمزور طبیعت کا ہوتا ہے فوراً شرمندہ ہو جاتا ہے اور دل میں کہتا ہے کہ اوہو! جب یہ بات ہے تو میں اب اسے نہیں کروں گا۔انسانی طبیعت پر اس قسم کا اثر کہ وہ بعض باتوں کو پسند کرتا ہے اور بعض کو نا پسند خاندانوں کے رسم و رواج کی وجہ سے ہوتا ہے ، قوموں کے تغائر کی وجہ سے ہوتا ہے، خاص خاص مذاہب کی مختلف تعلیمات کی وجہ سے ہوتا ہے اور ان تمام تاثرات کی وجہ سے جو اثر انسان کی طبیعت پر پڑے اسے لوگ وقار کہتے ہیں۔اس کے مطابق جب تک لوگ کام کرتے