خطبات محمود (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 635 of 772

خطبات محمود (جلد 17) — Page 635

خطبات محمود ۶۳۵ سال ۱۹۳۶ ہیں دوسرے کہتے ہیں یہ بڑے باوقار ہیں لیکن جب ان کے خلاف چلا جائے تو کہہ دیتے ہیں یہ وقار کے خلاف کام کرتے ہیں۔پس اس محاورہ کے استعمال کے لحاظ سے وقار کو نہ تو ہم ثواب کا موجب کہہ سکتے ہیں اور نہ عذاب کا باعث ، نہ اسے اچھا کہہ سکتے ہیں نہ بُرا ، جب یہ اچھے معنوں میں استعمال ہوگا تو ہم کہیں گے اچھا ہے اور جب بُرے معنوں میں استعمال ہوگا تو ہم کہیں گے بُرا ہے لیکن جن معنوں میں قرآن کریم نے اس لفظ کو استعمال کیا ہے ان کے رو سے یہ ہمیشہ ہی اچھا ہوتا ہے۔یادر ہے کہ وقار کے معنے عربی زبان میں بوجھ کے ہوتے ہیں اور اس سے سکون کا مفہوم لیا جاتا ہے کیونکہ بوجھل چیز ملتی کم ہے۔دوسرے معنے وقار کے عقلمندی اور دانائی کے ہوتے ہیں تو اصولی طور پر وقار کے دو معنے بن گئے ایک سکون کے معنے دوسرے عقلمندی اور دانائی کے۔ہمارے ملک میں جب یہ لفظ استعمال ہوتا ہے تو سکون کے معنوں میں استعمال ہوتا ہے جس طرح کہ انگریزی میں کنزرویٹونس (Conservativeness) کہتے ہیں۔لوگ عام طور پر کنزرویٹو پارٹی کو جانتے ہیں اس کے معنے بھی سکون ہیں یعنی ایسی پارٹی جو کہتی ہے ہم اپنے آباء واجداد کے طریق کو یونہی نہیں چھوڑ سکتے بلکہ ہم اپنے مقام پر کھڑے رہیں گے ہاں جب کوئی واضح غلطی نظر آئی تو اسے چھوڑ دیں گے محض بعض اچھے اصول کو دیکھ کر ہم اپنی باتوں میں تبدیلی کرنے کیلئے تیار نہیں بلکہ تجربہ کے بعد تبدیلی کریں گے اور جب تک تجربہ نہ ہو اُس وقت تک باپ دادوں کی راہنمائی ہمارے لئے کافی ہے۔اس قسم کی پارٹی کو کنزرویٹو پارٹی کہتے ہیں جس کا اردو میں ترجمہ قدامت پسند کیا جاتا ہے اور اسی کو سکون کہا جاتا ہے اور وزن اور بوجھ کے بھی یہی معنے ہوتے ہیں کیونکہ اس سے سکون پیدا ہو جاتا ہے۔پس وقار کے ایک معنے عادات کی اتباع میں سکون پیدا کرنے کے ہیں اور دوسرے معنے عظمندی اور دانائی کے ہیں۔دوسرے معنوں پر غور کرنے اور ان کی تفصیلات پر نگاہ ڈالنے سے معلوم ہوتا ہے کہ لغت کے لحاظ سے موقع اور محل کے مطابق کسی صحیح غرض اور مقصد کے ماتحت کام کرنا وقار کہلاتا ہے اور جب کوئی شخص بے موقع اور بے محل کام کرے تو اسے عدم وقار کہتے ہیں۔قرآن مجید میں وقار کا لفظ انہی دوسرے معنوں میں استعمال ہوا ہے کیونکہ پہلے معنے گو معیوب نہیں