خطبات محمود (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 614 of 772

خطبات محمود (جلد 17) — Page 614

خطبات محمود ۶۱۴ سال ۱۹۳۶ صورت میں تو یہ اور بھی زیادہ ناجائز ہے کہ ہم اُس کی نیکیوں کو چھپائیں اور بدیوں کو بیان کریں۔پس نیکی اور بدی دونوں کا اظہار اور اقرار کرنا ایک اچھی بات ہے لیکن ہندوستانی ذہنیت اس بارہ میں اس قدر گری ہوئی ہے کہ میں نے دیکھا ہے ہماری مثالیں بھی اسی اخلاق کا آئینہ ہیں۔کہتے ہیں کہ کوئی دوست کسی دوست سے ملنے گیا اور اس نے یہ ظاہر کرنا چاہا کہ راستہ میں میں نے ایک مزیدار نظارہ دیکھا ہے مگر اس پر اثر ڈالنے اور اس کی توجہ کو اپنی طرف کھینچنے کیلئے وہ کہنے لگاؤ الله بِاللَّهِ ثُمَّ اللہ راستہ میں اس قدر خونریز جنگ ہو رہی تھی کہ تھانیسر بھول گیا۔لاکھوں آدمی کٹا پڑا ہے۔اس کے دوست کو پتہ تھا کہ یہ ہمیشہ اثر ڈالنے کیلئے بات کو بڑھا کر بیان کرتا ہے اُس نے چھا سچ سچ کہو کیا واقعہ تھا۔وہ کہنے لگا بات یہ ہے کہ دو آدمی بُری طرح لڑ رہے تھے۔اب یا تو لاکھوں آدمی کٹا پڑا تھا یا صرف دو آدمی بڑی بُری طرح لڑ رہے تھے کا واقعہ رہ گیا مگر دوست کو اس پر بھی اطمینان نہ ہوا وہ کہنے لگا اچھا کہو نا بات کیا تھی ؟ دوسرے نے جواب دیا بات یہ ہے کہ راستہ میں دو بلیاں آپس میں لڑ رہی تھیں۔یہ طریق اچھا نہیں اور ہمیں اس خلق کو بدلنے کی کوشش کرنی چاہئے اور بالکل نڈر ہو کر اس طریق پر عمل کرنا چاہئے کہ نیکی کو نیکی اور بدی کو بدی کہا جائے۔بعض لوگ ڈرتے ہیں کہ اگر ہم نے یہ کہا کہ گورنمنٹ نے فلاں فعل اچھا کیا ہے تو لوگ کہیں گے اگر گورنمنٹ کی اب اصلاح ہو گئی ہے تو اس کی گزشتہ کوتاہیوں کو معاف کیوں نہیں کر دیتے اور پچھلی باتوں کو جانے کیوں نہیں دیتے۔چنانچہ صرف عام لوگ ہی نہیں بلکہ بعض ذمہ دار افسروں نے بھی کہا ہے کہ پیچھے جو باتیں ہو چکیں سو ہو چکیں اب اگر فلاں فلاں معاملہ میں گورنمنٹ نے آپ کے حسب منشاء فیصلہ کر دیا ہے تو خاموش کیوں نہیں ہو جاتے۔اس دلیل سے بھی بعض لوگ ڈر جاتے ہیں مگر میں اس کا بھی جواب دے دیتا ہوں اور انہیں بتاتا ہوں کہ یہ کوئی ڈرنے کی بات نہیں۔میں اس دلیل کی کمزوری ظاہر کرنے کیلئے ایک مثال بیان کرتا ہوں۔فرض کرو ایک شخص نے کسی کا گھوڑا چُرا لیا اور کچھ عرصہ کے بعد وہ اسی گھوڑے پر سوار ہو کر اس شخص کے پاس آیا اور کہنے لگا مجھ سے غلطی ہوگئی کہ میں نے آپ کا گھوڑا پھر الیا آپ اللهِ فِی اللہ مجھے معاف کر دیں آپ کی بہت ہی عنایت ہوگی۔گھوڑے کے مالک نے جب دیکھا کہ یہ اس گھوڑے پر ہی سوار ہو کر معافی طلب کرنے کیلئے آیا ہے تو وہ سمجھا کہ اب میرا گھوڑا تو ا