خطبات محمود (جلد 17) — Page 613
خطبات محمود ۶۱۳ سال ۱۹۳۶ اور اگر اس وجہ سے ان میں سے کوئی مرجاتا تو اس کی ذمہ داری کس پر ہوتی۔ایسے موقع پر پہلا فرض پولیس کا یہ ہونا چاہئے کہ جس وقت اسے اس قسم کے حادثہ کی اطلاع ملے جبری طور پر وہ کسی ڈاکٹر کو اپنے ساتھ لے اور پانچ دس منٹ کے اندر اندر حادثہ کے مقام پر پہنچ جائے لیکن وہاں پچاس منٹ کے بعد پولیس آئی اور اتنی دیر میں آدمی مر بھی سکتا ہے یا لا علاج بھی ہو سکتا ہے۔غرض ضمنی طور پر میں حکومت کو اس امر کی طرف بھی توجہ دلاتا ہوں کیونکہ آجکل میرے لئے اپنے خطبہ کے ذریعہ اسے توجہ دلانا بہت آسان ہے کیونکہ ہر خطبہ اسے باقاعدہ پہنچتا ہے کہ اس حماقت کا اُسے علاج کرنا چاہئے۔ایسی حماقتوں کے ہوتے ہوئے کوئی شخص ہندوستان کی حکومت کو مہذب نہیں کہ سکتا گورنمنٹ کو چاہئے کہ وہ پولیس والوں کو ہدایت دے کہ جب انہیں کسی حادثہ کی اطلاع ملے وہ رپورٹیں لکھنے نہ بیٹھ جایا کریں کیونکہ وہ وقت رپورٹیں لکھنے کا نہیں ہوتا بلکہ ان کا پہلا فرض یہ ہے کہ وہ ڈاکٹر لے کر اور مرہم پٹی کا ضروری سامان لے کر حادثہ کے موقع پر پہنچیں۔یہ ابتدائی حقوق ہیں جو بنی نوع انسان کے حکومت پر ہیں اگر گورنمنٹ یہ حقوق ادا نہیں کرتی تو وہ کوئی کام نہیں کر سکتی۔میں نے یہ واقعہ اس امر کے ثبوت کے طور پر سنایا ہے کہ ہندوستانیوں میں یہ عادت ہے کہ جب تک وہ مبالغہ سے کام نہ لیں اُس وقت تک سمجھتے ہیں بات کا اثر ہی نہیں ہوسکتا اور اگر ان کے مخالف کی کوئی اچھی بات ہو تو اسے بھی اس لئے بیان نہیں کریں گے کہ اس طرح ہماری بات کا اثر کم ہو جائے گا گویا ان کے نزدیک جب تک یہ نہ کہا جائے کہ دکھ ہی دکھ ہے اُس وقت تک بات مؤثر نہیں ہوتی مگر یہ صحیح طریق نہیں اور ایک مؤمن تو اس طریق کو کبھی بھی اختیار نہیں کر سکتا۔کسی شاعر نے کہا ہے عیب کے جملہ بگفتنی هنرش نیز بگو اے واعظ شراب کی خرابیاں تو تو نے تمام بیان کر دیں لیکن قرآن میں یہ بھی تو لکھا ہے کہ اس میں خوبیاں بھی ہیں تو ان خوبیوں کا بھی تو ذکر کر۔پس حکومت کی بُرائیوں کو ظاہر کرنا اس کی اصلاح کی کیلئے جہاں ضروری ہے وہاں حکومت اگر کوئی اچھی بات کرے تو ہمیں اس کی تعریف بھی کرنی چاہئے اور ہمارا اختلاف تو حکومت سے ہے ہی نہیں بلکہ حکومت کے بعض افسروں سے ہے اور اس