خطبات محمود (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 459 of 772

خطبات محمود (جلد 17) — Page 459

خطبات محمود ۴۵۹ سال ۱۹۳۶ اصلاح کے برابر ہی ضروری سمجھیں تو چند دن کے اندر ہی کا یا پلٹ سکتی ہے اور اس کے نتیجہ میں جو دوسرے قدم ہیں اُن کا اُٹھانا بھی ہمارے لئے آسان ہو سکتا ہے۔مجھے افسوس ہے کہ گو یہ مضمون نہایت ہی اہم ہے مگر چونکہ اب عصر کا وقت قریب ہو رہا ہے اور میرا گلا بھی بیٹھ گیا ہے اس لئے میں اصلاح اعمال کے متعلق اپنے خطبات کو موجودہ صورت میں ختم کرتا ہوں کیونکہ میں نے بتایا ہے کہ اس مضمون کے زیادہ تر حصے ایسے ہیں جو تحریک جدید کے دوسرے حصہ سے تعلق رکھتے ہیں اور ان کا اُسی وقت بیان کرنا مناسب ہے لیکن اس سے پہلے ہماری جماعت کے علماء لوگوں کو تیار کر سکتے ہیں۔اور دوسرے لوگ بھی جن کو خدا تعالیٰ نے علم و فہم بخشا ہے اور وہ خدا تعالیٰ کی خشیت اپنے دلوں میں رکھتے اور الہی محبت کے حاصل کرنے کی خواہش اپنے قلوب میں پاتے ہیں لوگوں کو اس رنگ میں تیار کر سکتے اور ان کے اعمال کی اصلاح میں حصہ لے سکتے ہیں اور میرے کام میں سہولت پیدا کر کے خدا تعالیٰ کی نظر میں خلیفہ وقت کے نائب قرار پاسکتے ہیں۔اس کام کا طریق میں بتا چکا ہوں جو یہ ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی برکات اور آپ کے فیوض لوگوں پر ظاہر کئے جائیں ، خدا تعالیٰ کے زندہ نشانات کا بار بار ذکر کیا جائے ، اللہ تعالیٰ کے قُرب کے حصول کے ذرائع لوگوں کو بتائے جائیں، خلیفہ وقت کی اطاعت اور نظام کی فرمانبرداری کی تلقین کی جائے اور ان لوگوں کے اعتراضات اور وساوس سے انہیں محفوظ رکھا جائے ، جو نا بینا ہو کر ایک بیٹا پر اعتراض کرتے ہیں ، جو لولے لنجے ہو کر اُس شخص پر اعتراض کرتے ہیں جو چلتا پھرتا ہے یعنی خدا تعالیٰ کے مقر کردہ خلیفہ پر۔وہ آپ تو سکتے ہی تھے مگر وہ چاہتے ہیں کہ دوسروں کو بھی نکما کر دیں اور انہیں بھی اپنی طرح گمراہی میں مبتلا کر دیں۔ان کے مقابلہ میں اگر وہ لوگ جنہیں خدا تعالیٰ نے ہاتھ پاؤں دیئے ہیں اور عقل و سمجھ سے انہیں حصہ دیا ہے کام کریں اور جماعت کی تربیت کریں تو آج ہی نقشہ بدل جائے لیکن میں دیکھتا ہوں کہ وہ وفات مسیح اور کی ختم نبوت کے مسائل میں ہی مشغول رہتے ہیں حالانکہ جس حصہ کی طرف ان کی توجہ ہے وہ علمی ہے اور جس حصہ کی طرف میں انہیں متوجہ کرنا چاہتا ہوں وہ عملی اور عرفانی ہے۔علم اور چیز ہے اور عرفان اور چیز۔ہمیں جو وفات مسیح وغیرہ کے مسائل کے متعلق علم کی ضرورت ہے وہ دشمن کیلئے ہے لیکن عمل اور عرفان کی اپنی جماعت کیلئے ضرورت ہے مگر ہمارے علماء کی ساری توجہ اس وقت