خطبات محمود (جلد 17) — Page 438
خطبات محمود ۴۳۸ سال ۱۹۳۶ دفعہ اس ہولڈر کے اٹھانے میں کامیابی نہیں ہوئی بلکہ دوسری دفعہ میں نے اسے اٹھایا ہے۔گواس موقع پر پہلی اور دوسری کوشش میں ایک سیکنڈ کے سینکڑویں حصہ کا فرق ہوتا ہے اور دونوں میں امتیاز کرنا مشکل ہوتا ہے مگر فرق ہوتا ضرور ہے۔یہ قوت موازنہ ہمیشہ علم کے ذریعہ آتی ہے خواہ علم اندرونی طور پر ہو خواہ بیرونی طور پر۔اندرونی علم سے مراد مشاہدہ اور تجربہ ہے اور بیرونی علم سے مراد بیر ونجات کی آوازیں ہیں جو کان میں پڑیں۔مثلاً یہ علم کہ دس دشمن آرہے ہیں ان کے مقابلہ کیلئے تیار ہو جاؤ بیرونی ہے کیونکہ کان اسے سنیں گے اور دماغ کو سنائیں گے۔لیکن جب دس سیر وزنی ھے اُٹھانے کے لئے ہاتھ بڑھتے ہیں تو کوئی اسے نہیں کہتا کہ یہ دس سیر وزنی ہے بلکہ سابق تجربہ کی بناء پر قوت موازنہ آپ ہی اس کے بارہ میں فیصلہ کرتی ہے پس یہ علم اندرونی ہوتا ہے۔اس تمہید کے بعد میں بتاتا ہوں کہ جب انسان اصلاح عمل کیلئے کھڑا ہوتا ہے تو قوت موازنہ یہ فیصلہ کرتی ہے کہ مجھے اپنی جدو جہد کیلئے کس قدر طاقت کی ضرورت ہے۔بعض دفعہ صحیح علم نہ ہو سکنے کی وجہ سے انسان اعمال کی اصلاح پر غالب نہیں آسکتا اور قوت موازنہ عدم علم کی وجہ سے اسے صحیح خبر نہیں دیتی کہ اس عملی اصلاح کیلئے کس قدر طاقت کی ضرورت ہے۔جیسے ظاہر ہے کہ اگر کسی کو معلوم نہ ہو کہ فلاں چیز زہر ہے تو عدم علم کی وجہ سے قوت موزانہ اس کے کھانے سے ڈرائے گی نہیں لیکن اگر اُسے معلوم ہو کہ یہ زہر ہے تو پھر اس کی قوت موازنہ فیصلہ کرے گی کہ آیا اُسے زہر کھانا چاہئے یا نہیں۔مثلاً اگر ایک شخص زندگی سے بیزار ہے، افکار و ہموم ہر وقت اس پر غالب رہتے ہیں اور وہ مشکلات کا مردانہ وار مقابلہ کرنے کی ہمت اپنے اندر نہیں رکھتا تو قوت موازنہ اسے کہے گی کھا لو اچھا ہے مرکر ان جھگڑوں سے نجات تو ملے گی لیکن جو شخص زندہ رہنا چاہتا ہے اسے قوتِ موازنہ کہے گی کہ یہ زہر ہے اسے مت کھاؤ۔یا فرض کرو کوئی ایسا زہر ہے جو پچاس فیصدی مہلک ثابت ہوتا ہے اور پچاس فیصدی ایسا بھی ہوتا کہ لوگ بچ جاتے ہیں اب اگر کسی انسان کے سامنے اس قسم کا زہر رکھ دے اور کہے کہ اگر یہ کھا لو تو میں تمہیں ایک ہزار روپیہ انعام دوں گا تو وہاں بھی قوت موازنہ اسے بتا دے گی کہ کس حد تک اسے اس تجویز پر عمل کرنا چاہئے اور کس حد تک نہیں۔اگر زندگی اس کیلئے دوبھر ہے، اگر مشکلات و مصائب سے وہ گھرا ہوا ہے اور جینے سے سخت بیزار ہے تو قوت موازنہ کہے گی زہر کھا لو اس میں کیا حرج ہے اگر بچ گئے تو رو پیدل جائے