خطبات محمود (جلد 17) — Page 437
خطبات محمود ۴۳۷ سال ۱۹۳۶ میں زائد طاقت تو نہیں آجاتی۔طاقت تو وہی ہوتی ہے جو پہلے تھی پھر وجہ کیا ہے کہ پہلی دفعہ وہ چیزی اُس سے نہیں اٹھائی جاتی مگر جب دوسری دفعہ اُسے پتہ لگتا ہے کہ بوجھل ہے تو وہ اسے اٹھا لیتا ہے ہے۔اس کی وجہ یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہر انسان میں ایک قوت مواز نہ رکھی ہوئی ہے۔وہ قوتی یہ فیصلہ کرتی ہے کہ فلاں کام کیلئے اتنی طاقت درکار ہے اور چونکہ ساری طاقت انسان کے ہاتھ میں نہیں ہوتی بلکہ دماغ میں محفوظ ہوتی ہے اس لئے جب دماغ اتنی طاقت بھیجتا ہے جتنی پہلی دفعہ قوت موازنہ طلب کرتی ہے تو انسان کے ہاتھ کو جھٹکا محسوس ہوتا ہے اور قوت مواز نہ سمجھ جاتی ہے کہ میری غلطی تھی تب وہ دماغ کو اور طاقت بھیجنے کیلئے کہتی ہے اور اس طاقت کے آنے پر چیز بآسانی اُٹھالی جاتی ہے۔مثلاً ایک چیز پڑی ہو جس کے متعلق انسان یہ سمجھتا ہو کہ یہ دس سیر وزنی ہے لیکن ہو نہیں سیر کی تو چونکہ انسان اسے اس طاقت سے اُٹھائے گا جتنی طاقت دس سیر بوجھ اُٹھانے کیلئے ضروری ہوتی ہے اس لئے اس کے ہاتھ کو جھٹکا لگے گا۔جھٹکا لگنے کے معا بعد دماغ کی دس سیر بوجھ اُٹھانے کی اور طاقت بھیج دے گا اور وہ چیز اُٹھائی جا سکے گی۔تو قوت موازنہ نے جو فیصلہ کیا اس کی غلطی کی وجہ سے انسانی ہاتھ کو جھٹکا لگا ور نہ طاقت تو اس میں اس بوجھ کو اُٹھانے کی پہلے سے تھی۔وہ طاقت رکھتا ہے کہ میں سیر بوجھ کو اٹھا لے لیکن قوتِ موازنہ جو دماغ کیلئے وزیر کی حیثیت رکھتی ہے کہا کہ دس سیر وزن کیلئے طاقت چاہئے تب دماغ نے اتنی ہی طاقت بھیج دی لیکن جب دشمن سے مقابلہ ہوا تو قوت موازنہ کو اپنی غلطی محسوس ہوئی اور اس نے دماغ کو اطلاع دی کہ دس سیر مزید کے اٹھانے کی طاقت بھجوائی جائے تب وہ چیز بآسانی اُٹھالی گئی۔بڑی بڑی چیزیں تو الگ رہیں چھوٹی چھوٹی چیزوں کا بھی یہی حال ہوتا ہے ہولڈر کی کیا حیثیت ہوتی ہے لیکن بعض ہولڈروں کے اندرسیسہ بھرا ہوتا ہے۔اب جو شخص ایسے ہولڈر کو جس میں سیسہ بھرا ہوا ہو غلطی۔عام ہولڈر سمجھ کر اُٹھائے گا تو چونکہ جتنی طاقت کی ضرورت تھی اس سے وہ کم طاقت خرچ کرے گا اس لئے اندرونی طور پر وہ ایک جھٹکا محسوس کرے گا کیونکہ جب وہ اسے اٹھانے لگتا ہے تو جتنی طاقت کی ضرورت سمجھ کر اُٹھاتا ہے اس سے زیادہ کی ضرورت محسوس ہو جاتی ہے اور اس طرح اس کا ہاتھ جھٹکا محسوس کرتا ہے اور گو ہولڈر اٹھانے کیلئے وہ دوسری دفعہ ہاتھ نہیں ڈالتا بلکہ پہلی مرتبہ ہی اسے اُٹھا لیتا ہے مگر اس میں شبہ نہیں کہ اس کا بازو اندرونی طور پر یہ جس محسوس کرتا ہے کہ مجھے پہلی ނ