خطبات محمود (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 360 of 772

خطبات محمود (جلد 17) — Page 360

خطبات محمود۔سال ۱۹۳۶ء دوسرا سوال یہ ہے کہ پنڈت نہر وصاحب کو فخر وطن کیوں لکھا گیا ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ اگر تو یہ لفظ ان معنوں میں استعمال کیا گیا ہے کہ وہ ہندوستان کے بچے اور صحیح راہنما ہیں تو میں بھی اس دوست کے ساتھ اعتراض میں شریک ہوں کہ یہ استعمال غلط ہے لیکن اگر استعمال ان معنوں میں ہے کہ وہ اپنے رنگ میں ملک کی بہتری کیلئے کوشش کر رہے ہیں تو اس میں کوئی حرج کی بات نہیں۔نہر وصاحب یا گاندھی جی یا اور وہ لوگ جو ہندوستان یا دنیا کی بہتری کیلئے کوشش کرتے ہیں ان کے احترام کیلئے ہم تیار ہیں اور اسے عار نہیں بلکہ فخر سمجھتے ہیں۔رسول کریم ﷺ کو ہم دیکھتے ہیں آپ ہمیشہ غیر قوموں کے لیڈروں کا احترام کرتے تھے۔چنانچہ صلح حدیبیہ کے موقع پر بخاری کی روایات میں ہے کہ ایک کا فر سردار آیا تو آپ نے فرمایا کہ جاؤ اس کا استقبال کرو اور قربانی کے بکرے اس کے رستہ میں کھڑے کر دو تا اس پر ایک نیک اثر ہو کیونکہ وہ قربانی کو پسند کرتا ہے۔وہ سردار آپ کا حاکم نہ تھا جیسا کہ کہا جاتا ہے کہ انگریز ہمارے حاکم ہیں بلکہ مد مقابل تھا مگر باوجود اس کے آپ نے صحابہ کو اس کے استقبال کیلئے بھیجا۔پس اس میں کوئی حرج نہیں۔ہر شخص جو کسی شعبہ زندگی میں اچھا کام کرتا ہے یقیناً وہ ہمارا کام کرتا ہے۔رسول کریم اللہ فرماتے ہیں الْكَلِمَةُ الحِكْمَةُ ضَالَّهُ الْمُؤْمِنِ اَخَذَهَا حَيْث وَجَدَها حکمت کی بات مؤمن کی کھوئی ہوئی چیز ہے۔پس جو کوئی حکمت کا کام کر رہا ہے خواہ تھوڑا ہو یا بہت اتنے حصہ میں ہم اس کی تعریف کر سکتے ہیں۔اگر ایک شاعر کی باوجود اس کے کہ شعر اخلاقا خراب ہوتے ہیں ہم تعریف کر سکتے ہیں تو کیوں ایک سیاسی خادم کی تعریف نہیں کر سکتے۔ہاں اگر کوئی شخص اس تعریف پر غیر معمولی زور دے تو یہ اس کی غلطی ہوگی۔مثلاً توحید کی تعلیم میں جن کے ساتھ ہمارا اتحاد ہو سکتا ہے ہم ان سے اتحاد کریں گے مگر جہاں وہ رسالت کا انکار کریں گے ہم ان کی مخالفت کریں گے۔یہ قرآن کریم نے یہودیوں کو مخاطب کر کے کہا ہے کہ خدا کے بارہ میں ہمارا اور تمہارا اتفاق ہے آؤ مل کر کام کریں پھر کوئی وجہ نہیں کہ اگر پنڈت نہرو صاحب سے کسی معاملہ میں ہمارا اتفاق ہو تو ان سے مل کر کام نہ کر سکیں۔میں سالہا سال سے یہ بات پیش کر رہا ہوں کہ کانگرس کی ناکامی کا بڑا موجب یہ امر ہے کہ وہ اس کو اپنے ساتھ شامل کرتی ہے جو سولہ آنہ اس سے متفق ہو ورنہ علیحدہ کر دیتی ہے۔میں۔