خطبات محمود (جلد 17) — Page 344
خطبات محمود ۳۴۴ سال ۱۹۳۶ء متعلق ذہنی طور پر فرق کر لیتے ہیں اور کہنا شروع کر دیتے ہیں کہ بعض گناہ بڑے ہیں اور بعض ٹے اور بعض نیکیاں بڑی ہوتی ہیں اور بعض چھوٹی ہوتی ہیں۔وہ فیصلہ کر لیتے ہیں کہ جو بڑی بڑی نیکیاں ہیں وہ ہم کر لیں گے اور چھوٹی نیکیوں کو نظر انداز کر دیں گے۔اسی طرح گنا ہوں میں سے بھی وہ جن گناہوں کو بڑا سمجھتے ہیں اُن سے بچنے کی کوشش کریں گے مگر اور گناہوں کا اپنے اندر پایا جانا انہیں قابلِ اعتراض امر معلوم نہیں ہوگا حالانکہ چھوٹی نظر آنے والی نیکیاں چھوڑ دینے سے بسا اوقات بڑے بڑے نقصان ہو جاتے ہیں اور معمولی نظر آنے والی بدیاں کر لینے بسا اوقات روحانیت کو نا قابلِ تلافی نقصان پہنچتا ہے۔پس ان کی قربانی دونوں طرف سے کم سمجھی جاتی ہے اور خدا تعالیٰ کی طرف سے طہارت اور پاکیزگی کا خلعت انہیں عطا نہیں کیا جاتا۔پھر بعض بدیوں کو چھوٹا سمجھنے کا نتیجہ یہ بھی ہوتا ہے کہ بدی کا بیج دنیا میں قائم رہتا ہے جو مناسب ماحول کے قائم ہونے پر پھر آگ آتا ہے۔اسی طرح جس نیکی کو چھوٹی سمجھ کر چھوڑ دیا گیا ہوتا ہے بسا اوقات وہ بڑی ہوتی ہے اور جس بدی کو چھوٹی سمجھ کر اختیار کر لیا جاتا ہے وہ بسا اوقات اس زمانہ میں نہایت مُہلک اور خطرناک نتائج پیدا کرنے والی ہوتی ہے۔پھر ہر شخص کے نزدیک چھوٹی بڑی بدی الگ الگ ہوتی ہے۔ایک شخص جس بدی کو بڑا سمجھتا ہے دوسرا اسے چھوٹا سمجھتا ہے اور دوسرا جس بدی کو چھوٹا سمجھتا ہے تیسرا اسے بڑا سمجھتا ہے جس کے نتیجہ میں دنیا میں ہر بدی کا بیج موجود رہتا ہے۔اگر سارے لوگ مل کر فیصلہ کر لیتے کہ فلاں بدی بری ہے تو وہ پیدا ہی نہ ہوتی۔جیسے مسلمان سارے گناہوں سے بدتر گناہ کی کہ شرک سے بھی بدتر سؤ رکھا نا سمجھتے ہیں۔یہ اسی لئے کہ ان میں متفقہ طور پر سوار کے متعلق یہ احساس پیدا ہو چکا ہے کہ اس کا گوشت کھانا بُرا ہے۔وہ کنچنیاں جو دو دو آنے ، چار چار آنے ، روپیہ روپیہ، دو دو روپے، چار چار روپے اور پانچ پانچ روپے پر علی قدر مراتب عصمت فروشی کرتی رہتی ہیں اور پھر سینہ پر ہاتھ مار کر کہتی ہیں کہ الْحَمْدُ لِلهِ ہم مومنہ ہیں ، وہ ڈا کو جو دو آنے پر ایک شخص کا خون بہانا جائز سمجھتے ہیں، وہ لوگ جو پندرہ پندرہ ، بیس بیس روپے لے کر بے دریغ دوسرے کو قتل کر دیتے ہیں اور منہ سے اسلام کا اقرار بھی کرتے جاتے ہیں ، وہ بھی عصمت فروشی اور قتل کو اتنا بر افعل نہیں سمجھیں گے جتنا سور کا گوشت کھانے کو۔جس کی یہی وجہ ہے کہ مسلمانوں میں سور کے گوشت کے متعلق مجموعی طور پر یہ احساس پیدا ہو چکا ہے کہ اس کا کھانا ای