خطبات محمود (جلد 17) — Page 343
خطبات محمود ۳۴۳ سال ۱۹۳۶ء لیکن تھوڑی دیر کے بعد اُس نے حلق کی تکلیف کے خیال سے پھر پیالی پیش کر دی آپ نے پھر ہاتھ سے اشارہ کیا کہ رہنے دو لیکن تیسری دفعہ اس نے پھر پیالی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے آگے کر دی حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے غالباً یہ سمجھ کر کہ اگر میں نے چائے کی پیالی نہ لی تو یہ ریاء ہو جائے گا اور سمجھا جائے گا کہ میں نے لوگوں کو دکھانے کی خاطر اس حکم پر عمل نہیں کیا جو سفر کے وقت روزہ نہ رکھنے کے متعلق اللہ تعالیٰ نے دیا ہے جب تیسری بار اس دوست نے پیالی پیش کی تو آپ نے لے لی اور اس میں سے تھوڑا سا گھونٹ بھر لیا۔یہ دیکھتے ہی لوگوں نے شور مچانا شروع کر دیا کہ امام مہدی ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں مگر رمضان میں روزے نہیں رکھتے۔وہ لوگ جو اُس وقت شور مچارہے تھے ان میں سے یقیناً نوے فیصدی نماز با جماعت کیا نماز کے ہی تارک تھے اور یقیناً ان میں سے ننانوے فیصدی جھوٹ بولنے ، دھوکا فریب کرنے اور لوگوں کے مال کوٹ لینے والے تھے مگر اس میں بھی کوئی شبہ نہیں کہ ان میں سے ننانوے فیصدی روزہ دار تھے کیونکہ ہندوستان میں روزہ کو سب سے بڑی نیکی سمجھا جاتا ہے مگر روزہ وہ اس طرح نہیں رکھتے جس طرح رسول کریم ﷺ نے روزہ رکھنے کا حکم دیا ہے۔آپ فرماتے ہیں کہ جو شخص روزہ رکھ کر جھوٹ بولتا، غیبت کرتا یا گالی دیتا ہے خدا تعالیٰ کے حضور اس کا کوئی روزہ نہیں ہے وہ صرف بھوکا اور پیاسا رہتا ہے۔اس حدیث کے مطابق گوننانوے فیصدی مسلمان بظاہر روزہ رکھ کر بھو کے اور پیاسے رہتے ہیں مگر وہ اس بھوکے پیاسے رہنے کو سب سے بڑی نیکی سمجھتے ہیں۔ان کے نزدیک جو شخص روزے رکھ لے اور چند اور نیکیوں پر عمل کرلے اُس کا بیڑا پار ہے۔ایسے لوگ دنیا میں پاکیزگی کے قائم کرنے میں کبھی مد نہیں ہو سکتے اور نہ وہ صحیح معیار گناہ قائم کر سکتے ہیں۔انہوں نے ی اپنے ذہن میں یہ نقشہ جمالیا ہوتا ہے کہ کچھ چھوٹی نیکیاں ہوتی ہیں اور کچھ بڑی نیکیاں ہوتی ہیں اور کچھ چھوٹی بدیاں ہوتی ہیں اور کچھ بڑی بدیاں ہوتی ہیں۔اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ جس نیکی کو بڑا ہے سمجھے ہوئے ہوتے ہیں اسے تو وہ اختیار کر لیتے ہیں مگر جن بدیوں کو چھوٹا سمجھ رہے ہوتے ہیں اُن کا مقابلہ کرنے کیلئے تیار نہیں ہوتے حالانکہ اسلام نے اُسی نیکی کو بڑا قرار دیا ہے جس پر عمل کرنا اُس کیلئے دوبھر ہو اور اُسی بدی کو بڑا قرار دیا ہے جس سے بچنا انسان کیلئے دوبھر ہو۔پس ایک تو عملی اصلاح میں سب سے بڑی روک یہ ہے کہ لوگ بدیوں اور نیکیوں کے