خطبات محمود (جلد 17) — Page 316
خطبات محمود ٣١٦ سال ۱۹۳۶ء صلى الله براہین احمدیہ کتاب لکھی، تیرہ سو سال میں بھلا کوئی مسلمان کا بچہ تھا جس نے ایسی کتاب لکھی ہو ، ی رزا صاحب نے اس میں ایسے ایسے علوم بھر دیے کہ کسی مسلمان کی کتاب اس کا مقابلہ نہیں کر سکتی ، وہ اسلام کیلئے ایک دیوار تھی جس نے اُسے دوسرے مذاہب کے حملوں سے بچالیا۔لیکن مولوی انہیں گالیاں دینے کی بڑی عادت تھی۔پانچ سات گالیاں دے کر کہنے لگے ) ایسے احمق اور بیوقوف نکلے کہ بجائے اس کے کہ وہ آپ کا شکریہ ادا کرتے اور زانوئے ادب تہہ کر کے آپ سے کہتے کہ ہم آئندہ آپ کے بتائے ہوئے دلائل ہی استعمال کیا کریں گے ان نالائقوں نے الٹا آپ پر کفر کا فتویٰ لگا دیا اور اسلام کی اتنی عظیم الشان خدمت دیکھنے کے باوجود جو رسول کریم ہے کے بعد تیرہ سو سال میں اور کسی نے نہ کی آپ کے خلاف کفر کے فتوے دینے لگے اور اپنی علمیت جتانے لگ گئے اور سمجھنے لگے کہ ہم بڑے آدمی ہیں۔اس پر مرزا صاحب کو غصہ آنا چاہئے تھا اور آیا۔چنانچہ انہوں نے مولوی سے کہا اچھا تم بڑے عالم بنے پھرتے ہو، اگر تمہیں اپنی علمیت پر ایسا ہی گھمنڈ ہے تو دیکھ لو حیات مسیح کا عقیدہ قرآن سے اتنا ثابت ہے، اتنا ثابت ہے کہ اس کے خلاف کی حضرت مسیح کی وفات ثابت کرنی ناممکن نظر آتی ہے لیکن میں قرآن کریم سے ہی حضرت مسیح کی وفات ثابت کر کے دکھا دیتا ہوں اگر تم میں ہمت ہے تو اس کارڈ تو کرو۔چنانچہ انہوں نے مولویوں کو ان کی بیوقوفی جتانے کیلئے وفات مسیح کا مسئلہ پیش کر دیا اور قرآن سے اس کے متعلق ثبوت دینے لگ گئے۔اب مولوی چاہے سارا زور لگالیں ، چاہے ان کی زبانیں گھس جائیں اور قلمیں ٹوٹ جائیں سارے ہندوستان کے مولوی مل کر بھی مرزا صاحب کے دلائل کا مقابلہ نہیں کر سکتے۔مرزا صاحب نے انہیں ایسا پکڑا ہے، ایسا پکڑا ہے کہ ان میں سراٹھانے کی تاب نہیں رہی۔اب اس کا ایک ہی علاج ہے اور وہ یہ کہ سارے مولوی مل کر ایک وفد کی صورت میں مرزا صاحب کے پاس جائیں اور کہیں کہ ہم سے آپ پر کفر کا فتویٰ لگانے میں بے ادبی ہوگئی ہے ہمیں معاف کیا جائے ، پھر دیکھ لیں مرزا صاحب قرآن سے ہی حیات مسیح ثابت کر کے دکھاتے ہیں یا نہیں۔اس سے آپ لوگ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ اُس وقت حیات مسیح کا عقیدہ کتنا یقینی سمجھا جاتا تھا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام پر اعتبار اور اعتما در کھتے ہوئے اور آپ کو اسلام کا سب سے بڑا خادم سمجھتے ہوئے پھر بھی اُن کا ذہن اس طرف نہ جاتا کہ جب وہ کہتے ہیں کہ حضرت مسیح کی