خطبات محمود (جلد 17) — Page 267
خطبات محمود ۲۶۷ سال ۱۹۳۶ قلعہ کو فتح کرنے پر ایک ترک جرنیل مامور تھا اور اسے حکم تھا کہ دو یا تین ہفتہ کے اندراندرا سے فتح کرے۔اُس نے متواتر حملے کئے مگر ناکام رہا آخر ایک دن اُس نے سپاہیوں کو بلا کر کہا کہ یہ معمولی لڑائی کا سوال نہیں بلکہ ہماری قوم کی زندگی اور موت کا سوال ہے اس لئے ہمیں اس بات سے بے پروا ہو کر کہ ہم میں سے کون جیتا رہتا اور کون مرتا ہے کل حملہ کرنا چاہئے اور اس نیت سے کرنا چاہئے کہ یا تو سب کے سب مر جائیں گے اور یا کل شام تک قلعہ میں ہوں گے۔سب نے کی اس کا اقرار کیا اور اگلے روز وہ سپاہیوں کو لے کر قلعہ کی طرف بڑھا۔وہ دیوانہ وار اوپر چڑھتے جا رہے تھے جب نصف فاصلہ طے کر چکے تو اس کرنیل کے گولی لگی اور وہیں گر گیا اس کے ساتھی تھی اسے اُٹھانے کیلئے آگے بڑھے مگر اس نے کہا تم کو خدا کی قسم ہے مجھے کوئی مت چھوئے اگر تم قلعہ کو فتح کر سکو تو اس کے اندر مجھے دفن کر دینا ورنہ میری لاش کو گتوں کے آگے ڈال دینا۔یہ بات سن کر سپاہی جو اس کی شفقت اور محبت کی وجہ سے اس کے گرویدہ تھے دیوانہ وار آگے بڑھے اور شام سے پہلے پہلے قلعہ کو فتح کر لیا۔تو یہ جذبات ہر قوم میں اور ہر حالت میں پائے جاتے ہیں حتی کہ بُزدل قوموں میں بھی انفرادی طور پر اس کی مثالیں مل جاتی ہیں اور تباہ شدہ قوموں میں بھی ملتی ہیں۔جب جنگ بلقان ہوئی تو میں اس کے تفصیلی حالات سے واقف رہنے کیلئے بعض انگریزی اخبار پڑھا کرتا تھا۔یونان کے ساتھ مختلف قو میں مل کر ترکوں پر حملہ آور تھیں جب سالونیکا پر حملہ ہوا تو ترکوں کے بعض غدار افسروں کی وجہ سے ترکوں کو شکست ہوئی۔اس کے متعلق میں نے لندن کے ایک اخبار میں پڑھا۔نامہ نگار نے ایک لیفٹیننٹ کا نقشہ کھینچا تھا جب غدار افسروں نے فوج کو پیچھے ہٹنے کا حکم دیا تو اُس نے اِس بات پر زور دیا کہ ہمیں ہرگز پیچھے نہیں ہٹنا چاہئے۔اس پر اعلیٰ کی افسر نے اسے جھڑک کر کہا کہ تم بیوقوف ہو اور افسروں کی حکم عدولی کرتے ہو اور فوج کو واپسی ہونے کا حکم دے دیا۔نامہ نگار نے لکھا ہے کہ اُس پر میں نے وہ نظارہ دیکھا کہ گو میں غیر جانبدار تھا میری آنکھیں پرنم ہوئے بغیر نہ رہ سکیں۔جب سپاہی پیچھے ہٹنے لگے تو اس لیفٹینٹ نے تلوار پھینک دی اور ایک پتھر پر بیٹھ کر چیچنیں مار کر رونے لگا اور اس کے کندھے شدت گریہ سے یوں حرکت کرتے تھے کہ معلوم ہوتا تھا کہ اس کے سینہ میں انگیٹھی جل رہی ہے۔تو بہادری کے جذبات ہمیشہ دشمن سے بھی بڑائی کا اقرار کرالیا کرتے ہیں اور ایمان کے ساتھ تو بہادری اتنی بڑھ جاتی ہے کہ