خطبات محمود (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 266 of 772

خطبات محمود (جلد 17) — Page 266

خطبات محمود ۲۶۶ سال ۱۹۳۶ کرنے کا موقع نہیں دیا جاتا۔مرد جا کر جانیں قربان کرتے ہیں اور عورتیں اس ثواب سے محروم رہتی ہیں۔رسول کریم ﷺ نے فرمایا کہ مجھے مردوں کو لے جانے کا ہی حکم ہے مگر اُس عورت نے بہت اصرار کیا کہ میں زخمیوں کی مرہم پٹی کروں گی آپ نے فرمایا کہ اسے لے لیا جائے ھے اور حکم دیا کہ جب بھی مالِ غنیمت آئے اس عورت کو بھی مردوں کے مساوی حصہ دیا جایا کرے کیونکہ اس نے انکار کیا کہ یہ اس وقت گھر میں بیٹھی رہے جبکہ مرد اپنی جانیں قربان کر رہے ہوں۔غرضیکہ مردی کیا اور عورت کیا سب نے اپنی قربانی سے یہ بات دکھا دی کہ ایمان نے ان کے اندر ایسی جرات پیدا کر دی تھی کہ جس کی مثال دوسری قوموں میں نہیں ملتی۔یہ چیز گو ایمان سے بہت شاندار ہو جاتی ہے ہے مگر غیر مؤمنوں میں بھی اس کا فقدان نہیں ہوتا۔ایمان اگر چہ اسے صیقل کر دیتا ہے مگر غیر دیندار اقوام میں بھی یہ پائی ضرور جاتی ہے۔گزشتہ ایام میں ترک دین سے بالکل بے بہرہ ہو چکے تھے گو کہلاتے مسلمان تھے اور اب تو دین سے بہت ہی دور چلے گئے ہیں لیکن جیسا کہ میں نے بتایا ہے شریف قوم شریف جذبات سے عاری نہیں ہو سکتی۔چنانچہ گزشتہ جنگ عظیم میں ہم قریباً مہینہ بھر یہ خبر پڑھتے رہے کہ ایک جانباز ترک سپاہی ایک پہاڑی پر کھڑا ہو کر دشمن کو سخت نقصان پہنچاتا ہے اور پھر غائب ہو جاتا ہے پکڑا نہیں جاتا۔آخر ایک دن وہ پکڑا گیا تو معلوم ہوا کہ وہ ایک ترک عورت تھی اور پوچھنے پر اُس نے تھی بتایا کہ مرد جب لڑنے کیلئے آئے تو میں نے یہ درست نہ سمجھا کہ میں گھر میں بیٹھی رہوں چنانچہ میں اکیلی ہی چلی آئی اور اس پہاڑی پر بیٹھ کر جب بھی مجھے موقع ملتا قوم کا بدلہ لیتی رہی۔تو یہ بہادری کے جذبات دین سے باہر بھی ملتے ہیں اور بعض اوقات وہ بھی بہت شاندار ہوتے ہیں گو اتنے نہیں جتنے ایمان اور توکل کے ساتھ۔میں نے پہلے بھی کئی دفعہ سنایا ہے کہ جب یونان سے ترکوں کی جنگ ہوئی تو یورپین قو میں منصو بہ بازیاں کرتی رہیں۔ان کا خیال تھا کہ یونانی دروں کے قلعے فتح کرنے آسان نہیں اور جب تک ترک اُن تک پہنچیں گے وہ اپنے اندر اتحاد پیدا کر کے بیچ میں آکو دیں گی اور پھر ترکوں کو ذلت کی صلح پر مجبور کر دیں گی۔ترک بھی اس بات سے ناواقف نہ تھے۔اس لئے انہوں نے ا۔جرنیلوں کو حکم دے رکھا تھا کہ جس قدر جلد ممکن ہو دروں کے قلعے فتح کر لئے جائیں۔ایک پہاڑی کی