خطبات محمود (جلد 17) — Page 251
خطبات محمود ۲۵۱ سال ۱۹۳۶ء کو اس لعنت سے بچائے مگر مجھے افسوس ہے کہ اب تک اپنی اولا دوں کو سستی اور غفلت سے بچانے کی طرف جماعت نے کوئی خاص توجہ نہیں کی۔اس تحریک میں مائیں روک بنتی ہیں ، اس تحریک میں باپ روک بنتے ہیں، اس تحریک میں استاد روک بنتے ہیں حالانکہ اگر ماں باپ اور استاد بچوں کی نگرانی کر کے سستی اور غفلت کی عادت اگلی نسل سے دور کر دیں تو ان کا یہ کام جہاد اعظم کے برابر حیثیت رکھے گا مگر مجھے افسوس ہے کہ اب تک یہ کام کرنے والے ہمیں میسر نہیں آئے حالانکہ ہمیں ایسے کارکنوں کی ضرورت ہے جنہیں کام میں لذت آئے اور جو وَ النَّزِعَتِ غَرْقًا کا مصداقی ہوں کہ جب کسی کام میں ہاتھ ڈالیں اس میں غرق ہو جائیں اور غرق ہو کر اس میں سے موتی نکال لائیں۔مجھے تعجب ہوا کہ کل ہی میں نے ایک کام کیلئے ایک دفتر کو تاکید کی اور کہا کہ چونکہ وہ اس کام میں کئی مہینوں سے سستی کرتے چلے آئے ہیں اس لئے اب وہ یہ کام ختم کر کے دفتر بند کریں چاہے دو دن انہیں رات دن دفتر کھلا رکھنا پڑے۔اس کے جواب میں رات کے تین بجے مجھے ایک کی افسر کا رقعہ ملا جسے پڑھ کر ہنسی بھی آئی اور رونا بھی۔ہنستی تو اس لئے کہ اس نے لکھا فلاں شخص بھی کی میرے ساتھ مل کر کام کر رہا ہے اسے تین بجے اٹھنے کی اجازت دی جائے حالانکہ اسی کی غفلت کے نتیجہ میں کام خراب ہوا تھا مگر ذکر اس رنگ میں کیا گیا گویا اس کا کام کرنا بہت بڑا احسان ہے اور رونا مجھے اس لئے آیا کہ میں نے کہا تھا چاہے دو دن انہیں دن رات دفتر کھلا رکھنا پڑے کھلا رکھیں اور اس کام کو ختم کریں مگر مجھے لکھا گیا اب تو تین بج چکے ہیں اب ہم میں سے بعض کو جانے کی اجازت دی جائے۔وہ تو نو جوان ہیں اور اس لحاظ سے انہیں کام زیادہ کرنا چاہئے مگر میری تو عمر ان سے زیادہ ہے صحت بھی کمزور ہے لیکن سال میں بیسیوں دن ایسے آتے ہیں جب رات کے تین تین چار چار بجے تک مجھے کام کرنا پڑتا ہے مگر انہیں یہی بات اچنبھا معلوم ہوئی کہ ایک دن انہیں رات کے تین بجے تک کام کرنا پڑا اور اس کے بعد انہیں ضرورت محسوس ہوئی کہ کام چھوڑنے کی کی اجازت لیں گویا ان کے نزدیک تین بجے کے بعد اگر کام کیا جائے تو موت ہی آجاتی ہے۔حالانکہ بیسیوں دن سال میں مجھ پر ایسے آتے ہیں جب مجھے چار چار بجے تک بیٹھ کر کام ختم کرنا پڑتا ہے اور اس میں بعض دفعہ میں اپنی بیویوں کو بھی شامل کر لیتا ہوں۔ابھی آٹھ دن ہوئے رات کے وقت سخت گرمی تھی اور میں پسینہ میں شرابور تھا میری بیوی بھی بیمار تھیں مگر میں نے انہیں کہا کہ تم زائد